سرینگر// پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے نجی موٹر گاڑیوں کی سیل میں 50%فیصدی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ موٹرسائکل اور سیکوٹی کی سیل بھی 20سے30فیصدی کم ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے موٹر وہیکلز کمپنیوں کو ماہانہ عربوں روپے کا خسارہ اُٹھانا پڑرہا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق گذشتہ ایک برس میں تیل کی قیمتوںمیں مسلسل اضافہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کے کاروبار میں حد درجہ کمی واقع ہوئی ہے ۔ بھارت میں موٹر گاڑیاں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ’ایم ایس آئی‘نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ جولائی میں 1,53,550یونٹ سیل ہوئے ہیں ہیں جبکہ یہ تعداد کل سیل کا محض نصف حصہ ہے اس دوران ماروتی سزوکی انڈیا،ٹاٹا موٹرس اور ٹویاٹا کرلوس ،ہنڈائی، مہندرا اینڈ مہندرا اور فورڈ جیسے گاڑیوں کی سیل میں بھی گذشتہ ماہ کافی کمی دیکھنے کو ملی ہے ۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے جہاںموٹر وہیکلز کی خریداری میں کمی واقع ہوئی ہے وہیںپر موٹر سائیکلوں کی سیل میں بھی کافی حد تک کمی ہوئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائکل اور سکوٹی کے کاروبار میں 20سے تیس فیصدی کمی واقع ہوئی ہے اور اس طرح موٹر وہیکل کمپنیوں اور موٹرسائیکل کمپنوں کو ماہانہ عربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ جی ایس ٹی بھی ایک بڑی وجہ سے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی خریدوفروخت میں کمی واقع ہو ئی ہے ۔










