گجر بکروال خانہ بدوش طبقہ سے محکمہ جنگلات کو سالانہ کروڑ کی آمدنی

گجر بکروال خانہ بدوش طبقہ سے محکمہ جنگلات کو سالانہ کروڑ کی آمدنی

سرینگر// گجر بکروال خانہ بدوش طبقہ کی جانب سے محکمہ جنگلات کو سالانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہونے کے باوجود خانہ بدوشوں کے ریوڑوں چلنے کیلئے سرینگر جموں شاہراہ پر کہیں بھی فٹ پاتھ قائم نہیں کئے گئے ہیں جبکہ 1997سے خانہ بدوش اپنے اہل عیال سمیت سرینگر سے جموں اور جموں سے سرینگر سفر کرتا رہا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق گجر بکروال خانہ بدوش طبقہ جو کہ صدیوں سے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ چرانے کا کام کرتے آئے ہیں اور اس سلسلے میں ہر سال جموں سے سرینگر اور سرینگر سے جموں اپنے مال مویشیوں سمیت پیدل سفر کرتے ہیں۔ اس سفر کیلئے خانہ بدوش کنبے محکمہ جنگلات کو فی بھیڑ، بکری کے 5 روپے سالانہ بطور رائلٹی اداکرنی پڑتی ہے جبکہ گائے ، بھینس اور گھوڑے پر یہ ٹیکس 7.5روپے سالانہ اداکرنا پڑتا ہے۔ مذکورہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کنبے اس گردش میں سال بھر رہتے ہیں ہر کنبہ کے ریوڈ میں ہزاروں کی تعداد میں مویشی ، بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں اس طرح سے ہر کنبہ سالانہ ہزاروں روپے محکمہ جنگلات کو اداکرتا ہے اور اس طرح سے یہ کروڑوں روپے خانہ بدوشوں سے محکمہ وصول کرتا ہے لیکن یہ سارا پیسہ کہاں اور کس کھاتے میں جاتا ہے آج تک کسی کو معلوم نہیں چل سکا ہے۔ سی این آئی نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے خانہ بدوشوں کے مختلف کنبوں نے کہا کہ اگرچہ محکمہ ان سے سالانہ کروڑوں روپے وصول کرتا ہے تاہم سرینگر جموں شاہراہ پر کسی بھی جگہ ان کے عارضی ٹھہرائو کیلئے کوئی انتظام نہیں رکھا گیا ہے اور نا ہی ریوڑ کے چلنے کیلئے شاہراہ کے کنارے کوئی فٹ پاتھ قائم ہے جہاں سے بھیڑ بکریوں کے جھنڈ چلتے پھرتے اس کے برعکس بھیڑ بکریوں دیگر جانوروں کو جن کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے شاہراہ کے بیچوں بیچ چلنے پر ہی مجبور ہوجاتے ہیں جس کے سبب سرینگر جموں شاہراہ پر گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے اور سینکڑوں گاڑیاں قطار در قطار درماندہ ہوکے رہ جاتی ہیں۔ انہوں نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی نوعیت کو سمجھ کر اقدامات اْٹھائیں۔۔