گاندربل میں بین الاقوامی آن لائن سرمایہ کاری گھوٹالے بے نقاب

گاندربل میں بین الاقوامی آن لائن سرمایہ کاری گھوٹالے بے نقاب

209 کروڑ روپے کا لین دین،ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت 9 افراد گرفتار

سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر پولیس نے پیر کے روز وسطی کشمیر میں ایک بڑے بین الاقوامی آن لائن سرمایہ کاری گھوٹالے کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں اب تک 209 کروڑ روپے کے لین دین کا سراغ لگایا گیا ہے۔ اس معاملے میں ہریانہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر سمیت مجموعی طور پر 9 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق پولیس کے مطابق یہ کیس ضلع گاندربل کے پولیس اسٹیشن میں اس وقت درج کیا گیا جب صفاپورہ کے ایک رہائشی نے شناختی چوری اور جعلی آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے دھوکہ دہی کی شکایت درج کرائی۔ اس سنگین معاملے کی تحقیقات کے لیے ضلعی پولیس افسران کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سوشل میڈیا اور سرچ انجنز پر جعلی ویب سائٹس کے ذریعے لوگوں کو بھاری منافع کا لالچ دے کر فرضی کوائن ٹریڈنگ اسکیموں میں پھنسایا گیا۔ متاثرین سے حاصل کی گئی رقم کو کشمیر کے مختلف اضلاع میں موجود بینک کھاتوں کے ذریعے گھمایا گیا، کئی سطحوں پر لین دین کیا گیا اور بعد ازاں جموں و کشمیر سے باہر، حتیٰ کہ بعض معاملات میں بیرون ملک منتقل کیا گیا تاکہ سراغ رسانی سے بچا جا سکے۔پولیس نے اس نیٹ ورک کے مبینہ مرکزی سرغنہ کی شناخت ایکانت یوگ دت عرف ‘‘ڈاکٹر مورفین’’ کے طور پر کی ہے، جو ہسار، ہریانہ کا رہائشی ہے۔ پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کو دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اْس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ چین سے واپس آ رہا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس نے بیرون ملک تعلیم کے دوران غیرملکی شہریوں سے روابط قائم کیے اور اسی کے ذریعے پورے نیٹ ورک کو منظم کیا۔اس کے علاوہ مزید آٹھ افراد کو علاقائی کوآرڈینیٹرز کے طور پر کام کرنے اور بینک کھاتوں کا انتظام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مالی طور پر کمزور افراد کو ماہانہ رقم دے کر ان کے بینک اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز استعمال کیے جاتے تھے۔ بعض بینک ملازمین کے ممکنہ کردار کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جن پر فراڈ پلیٹ فارمز سے منسلک کیو آر کوڈز کی سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔پولیس نے اب تک 835 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کی ہیں، جن میں سے 290 کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اگرچہ فی الحال 209 کروڑ روپے کی رقم کا سراغ لگا لیا گیا ہے، تاہم تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ یہ رقم 400 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پولیس کے مطابق رقم کے مکمل راستے کی کھوج اور ملزمان سے منسلک جائیدادوں کی ضبطی کے لیے کارروائی جاری ہے۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آن لائن سرمایہ کاری کی ایسی اسکیموں سے ہوشیار رہیں جو غیرحقیقی اور غیرمعمولی منافع کا وعدہ کرتی ہیں، کیونکہ یہ اکثر دھوکہ دہی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔