خالی اسامیوں کی پْرکاری اور پالیسی اصلاحات کا مطالبہ،ترقیوں میں تاخیر
سرینگر// یو این ایس//سری نگر میں جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) کے 2013 بیچ کے افسران نے 13 برس سے زائد عرصے تک جونیئر اسکیل میں جمود پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے فوری مداخلت اور ترقیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔افسران کی جانب سے پیش کی گئی ایک باضابطہ عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ وہ چار سالہ سروس مکمل کرنے کے باوجود ٹائم اسکیل میں ترقی کے اہل ہونے کے باوجود گزشتہ 13 برس سے جونیئر اسکیل میں ہی تعینات ہیں۔ انہوں نے اس تاخیر کی وجہ نظامی خامیوں، خالی آسامیوں کے استعمال نہ ہونے، کوٹہ نظام میں عدم توازن اور انتظامی سستی کو قرار دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق عرضداشت میں بتایا گیا کہ موجودہ قواعد، خصوصاً ایس آر او-256 (2016) کے تحت براہ راست بھرتی ہونے والے افسران کیلئے ترقی کا کوٹہ 50 فیصد تک محدود ہے، جس کے باعث محکمانہ سروسز سے آنے والے جونیئر افسران کو سینیئر ڈائریکٹ ریکروٹس پر فوقیت مل رہی ہے۔ افسران کے مطابق اس سے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ پر ہونے والی بھرتیوں کی اہمیت متاثر ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا کہ 2011 سے اب تک 728 افسران کو جونیئر اسکیل میں شامل کیا گیا، تاہم ٹائم اسکیل کی آسامیوں میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ نتیجتاً 575 سے زائد ڈائریکٹ ریکروٹ افسران ترقی کے منتظر ہیں، جس سے سروس کے اندر بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔افسران نے مزید نشاندہی کی کہ تقریباً 305 ٹائم اسکیل آسامیاں، جن میں ڈیوٹی، ریزرو اور تکنیکی کوٹہ شامل ہیں، تاحال خالی پڑی ہیں اور انہیں فوری طور پر پْر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیر التوا ترقیوں کا مسئلہ حل ہو سکے۔انہوں نے اتر پردیش، راجستھان اور کیرالا جیسی ریاستوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بہتر ترقیاتی پالیسیاں افسران کو بروقت ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔عرضداشت میں بین الخدماتی عدم مساوات کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ 2012 کے بعد تعینات دیگر سروسز کے افسران کو پہلے ہی ترقی دی جا چکی ہے، جس سے انصاف اور برابری کے اصولوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔افسران نے زور دیا کہ جے کے اے ایس جموں و کشمیر کے نظم و نسق کا ایک اہم ستون ہے، اور بروقت ترقی نہ ہونے سے نہ صرف افسران کے حوصلے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ انتظامی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوٹہ نظام میں نظرثانی، غیر استعمال شدہ زمروں کا خاتمہ اور قومی سطح کی بہترین پالیسیوں کے مطابق اصلاحات کی جائیں تاکہ ایک شفاف، منصفانہ اور مؤثر ترقیاتی نظام قائم کیا جا سکے۔










