کینیڈا کے مشرقی ساحل پر شدید طوفان سے تباہی، بحالی کیلئے طویل عرصہ درکار

کینیڈا کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے والے طاقتور طوفان فیونا نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی۔جس کے بعد حکام کی توجہ بڑے پیمانے پر صفائی ستھرائی کی کوششوں، نقصانات کا تخمینہ لگانے اور بجلی اور ٹیلی کام سروسز کی بحالی پر مرکوز ہوگئی، جنہوں نے خبردار کیا کہ بحالی میں ایک طویل عرصہ لگے گا۔خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تاریخی طوفان شدید طوفانی ہواؤں کے ساتھ مشرقی کینیڈا کے ساحل سے ٹکرایا، جس نے آبادی کو زبردستی انخلا پر مجبور کیا، درختوں اور بجلی کی لائنوں کو اکھاڑ پھینکا، اور بہت سے گھروں کو ‘ملبے کا ڈھیر‘بنا دیا۔کینیڈین ہریکین سینٹر نے اندازہ لگایا کہ فیونا کینیڈا میں ریکارڈ پر سب سے کم دباؤ والا زمینی طوفان تھا۔وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈین مسلح افواج کو صفائی میں مدد کے لیے تعینات کیا جائے گا، فیونا نے کافی نقصان پہنچایا ہے اور بحالی کے لیے بڑی کوشش کی ضرورت ہوگی۔طوفان کی شدت کے باوجود اس کے نتیجے میں کوئی فرد شدید زخمی یا کسی کی موت نہیں ہوئی، جس کے بارے میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ رہائشیوں کے بار بار وارننگز پر دھیان دینے کا نتیجہ ہے۔تاہم نووا اسکوشیا، پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ اور نیو فاؤنڈ لینڈ کے ہزاروں باشندے بجلی سے محروم اور کمزور ٹیلی کام کنکشنز کا سامنا کررہے تھے، حکام نے رہائشیوں سے صبر کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے متنبہ کیا کہ کچھ معاملات میں ضروری خدمات کو مکمل طور پر بحال ہونے میں ہفتے لگ جائیں گے۔پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ کے پریمیئر ڈینس کنگ نے کہا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ نقصان بہت زیادہ ہے، غالباً ہمیں سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔جزیرے کے رہائشیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری بحالی کا راستہ ہفتوں یا اسے زیادہ عرصے پر محیط ہو۔فیونا کی وجہ سے بجلی کی بندش کی وجہ سے یونیورسٹی کے کئی طلبا جنریٹرز سے چلنے والے اسٹورز کے باہر کھانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔کینیڈین ریڈ کراس نے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فنڈ ریزنگ مہم شروع کی ہے۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ تباہی کا مکمل پیمانہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ہی معلوم ہو سکے گا۔170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والے طوفان کے جھونکے گھروں، پلوں اور سڑکوں کو بہا کر لے گئے جس نے 2019 میں سمندری طوفان ڈورین سمیت دیگر طوفانوں سے ہونے والے نقصان کی یاد تازہ کر دی۔متاثرہ صوبوں کے وزرائے اعظم نے وفاقی حکومت سے کہا کہ طوفان سے اسکولوں اور کمیونٹی سینٹرز کی چھتیں اکھڑ جانے کے بعد انہیں عوامی اور اہم انفراسٹرکچر کے ارد گرد طویل مدتی مدد کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی کاروباروں اور خاندانوں کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے تاکہ وہ تیزی سے معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔طوفان نے اٹلانٹک کینیڈا میں ماہی گیری کے بندرگاہوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جس سے ملک کی لابسٹر انڈسٹری کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اگر چند ہفتوں میں سیزن شروع ہونے سے پہلے اسے مکمل طور پر بحال نہ کر دیا گیا۔کینیڈا کے بین الحکومتی امور کے وزیر ڈومینک لی بلینک نے کہا کہ ‘ان ماہی گیروں کو طوفان کے گزر جانے کے بعد اپنے روزگار تک فوری رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔’