شیخ بشیراحمد
میرے سامنے والے بنگلے میں کرامت علی رہتے تھے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے پڑوسی تھے۔ اُن کا بنگلہ ہمارے مکان سے لگ بھگ سو ڈیڑھ سو میٹر کی دوری پر تھا۔ پیشے سے وہ کسی سرکاری ادارے میں بڑے عہدے پر فائز تھے۔شریف ضیع، نفاست پسند او روقت کی پابندی کے لئے مشہور تھے ہی اپنی گھریلو زندگی میں بھی ہمدرد ،وسیع قلب ووسیع نظر تھے ۔گاہے بگاہے مقامی مسجد میں نظر آتے تھے۔شایدیہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے بچوں کو دُنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم سے بہر مند کیا تھا ۔ بستی میں چھوٹے بڑے اُن کی عزت کیا کرتے تھے۔
کرامت علی کی بیگم نجم النساء جتنی خوبصورت تھی۔ اتنی وہ خوبصورت سیرت مگر تھی کم گو بہت نپاتُلا بولتی تھی اور عمر کے لحاظ سے ان سے بڑی لگتی تھی۔ ناساز طبیعت کی وجہ سے وقت نے اسے پہلے ہیضعیف اور بوڑھی بنادیا تھا۔ اتنی نیک سیرت اور شرم دار تھی کہ کسی سے نظر یں ملا کر وہ باتیں نہیں کرتی مگر جب بھی وہ پیاری پیاری سی باتیں کرتی تھی تو اس کے منہ سے جیسے پھولوں کے پھوار اُبل پڑتے ۔ جس سے اپنانیت وخلوص کی کونپلیں پھوٹنے لگتیں۔
ان کے دو صاحبزادے تھے۔ بڑا ڈاکٹر اور چھوٹا کسی مشہور نجی کمپنی میں منیجر کے عہدے پر تھا۔ گھر میں دھن دولت کی ریل سیل تھی۔ کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے کرامت علی کو کہیں سے قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔
کرامت علی نے دوران سروس میں ہی اپنے بنگلے کے سامنے ایک وسیع عریض زمین کے ٹکڑے پر ایک اور بنگلہ بنوایا تھا۔ بڑا بیٹا ڈاکٹر نے تعمیر کردہ بنگلہ میں منتقل ہوگیا اور خود کرامت علی اپنے ہی پرانے بنگلے میں چھوٹے بیٹے کے ساتھ قیام کرنے لگا۔ بڑے بیٹے نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اُسے چھوٹے سے کافی لگائو ہے اور چھوٹا بھی باپ کی شفقت سے محروم نہیں ہونا چاہتا ہے۔
دونوں بھائی خوش تھے
وقت کا پرندہ پرواز کرتا گیا
جون کا مہینہ تھا۔ ایک دن اچانک کرامت علی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس دنیا سے اُٹھ گئے۔تعزیہ داری کے ساتھ مذہبی دیگر رسومات کئی ہفتے تک چلیں پھر جب گھر میں حالات معمول پر آگئے تو دونوں بھائیوں نے مال واسباب کا بٹوارہ کیا ۔
آخر میں نجم النساء کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ جس سے دونوں بھائیوں نے کافی غوروخوض اورگفت شنید کے بعد باہمی طور پر طے کرکے یہ فیصلہ لیا گیا کہ ہر مہینے کے پہلے پندرہ واڑہ بڑے کے پاس او راس کے بعد دوسرے پندواڑے میں چھوٹے کے پاس رہے گی۔
چونکہ پہلے ہی دو ڈھائی مہینے کرامت علی کی ماتم برسی میں گزرچکے تھے اور جب ستمبر کا مہینہ آگیا تو اس مہینے میں وہ طے شدہ معاہدے کے مطابق پہلے پنڈواڑے میں بڑے کے پاس ٹہری اور بعد کے پندرہ دن چھوڑے کے پاس رہی اس طرح ستمبر کا مہینہ خوش اسلوبی سے گزاردئے نہ کوئی تقاضہ اور نہ کوئی جھگڑا پیدا ہوا۔
لیکن اکتوبر کے اکتیس واں دن باعث جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ چھوٹے نے اس دن کو اپنے پاس رکھنے سے صاف انکار کردیا۔ جبکہ بڑے نے پہلے ہی اپنی ذمہ داری کندھوں پر سے اُتار دی تھی لہذا وہ دن نجم النساء پر اتنا بھاری پڑا کہ ایک ہی جھٹکے میں گھر سے بے گھر ہوکر سڑی پر آگئی ۔بزرگوں نے کیا خوب کہا ہے اندھیرے میں تو اپنا سایہ بھی چھوڑ دیتا ہے۔ ایسا حال اسکے ساتھ ہوگیا کہ سرچھپانے کیلئے اُسے کہیں جگہ نہ ملی۔
اُسے وہ رات کھلے آسمان تلے بنا سائیبان مسجد کے باہری گیٹ کے پاس گزارنا پڑی۔
دوسرے دن فجر اذان سن کر جب مسجد میں لوگ آنے لگے تو یہ منظر دیکھ کر انکے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ وہ حیرت کے مارے دھک سے رہ گئے۔
بچاری کڑاکےکی سردی میںٹُھٹھرکر ایسی سمٹی پڑی تھی کہ اسکے سفید چاندی جیسے بال جھریوں بھرے چہرے پر بے ترتیب ہوانے ہلکے جھونکوں سے مچل کر اپنی بے بسی بیان کررہے تھے۔ جنہیں آج تک کسی نامحرم نے دیکھا نہ تھا۔
ٹینگہ پورہ نواب بازار سرینگر کشمیر
6005368893










