کپواڑہ اور ہندوارہ میں مسافر گاڑیوں میں اوور لوڈنگ انسانی جانوں کیلئے خطرہ

گاڑیوں میں لوگوں کو گنجائش سے زیادہ چڑھانا ٹریفک قواعد کی سرکار سر خلاف ورزی

سرینگر//شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ اور سب ضلع ہندوارہ میں مختلف روٹوں پر چلنے والی گاڑیوں میں اوورلوڈنگ سے انسانی جانوں کے ضیاں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اوورلوڈنگ پر روک لگانے کیلئے اقدامات اْٹھائے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ اور سب ضلع ہندوارہ کے مختلف روٹوں پرچلنے والی مسافر گاڑیوں میں لوگوں کو ٹھونس ٹھونس کرلادا جاجارہاہے اور نہ صرف گاڑی کے اندر گنجائش سے زیادہ مسافروں گاڑی میں چڑھائے جاتے ہیں بلکہ گاڑی کے چھتوں اور پیچھے کی سیڑی پر بھی مسافر لٹکتے ہوئے سفر کرتے ہیں جس سے انسانی جانوں کے ضیاں کاخطرہ بڑھ گیا ہے۔ وی او آئی کے نمائندے ائمین بشیر وانی نے بتایا کہ خاص کر ضلع کے لولاب علاقے میں مسافروں نے شکایت کی کہ حکام کپواڑہ ضلع کے لولاب اور ہندواڑہ میں مختلف راستوں پر چلنے والی مسافر گاڑیوں میں اوور لوڈنگ کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔مسافروں نے الزام لگایا کہ ڈرائیور اوور لوڈنگ کرکے مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔مختلف دیہات کے لوگوں نے بتایا کہ تقریباً ہر روٹ پر اوور لوڈ بسیں اور چھوٹی گاڑیاں بغیر کسی خوف کے چلتی ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ٹاٹا سومو کیب ڈرائیور اس وقت تک اسٹینڈ سے نہیں نکلتے جب تک کہ انہیں منزل کے لیے کم از کم 12 سے 14 مسافر نہیں مل جاتے۔یہ صورتحال زیادہ تر دیہی اور دور دراز علاقوں میں پائی جاتی ہے۔نمائندے نے بتایا کہ شام کے اوقات میں پبلک ٹرانسپورٹ کا منظر نامہ اور بھی خراب ہو جاتا ہے۔کچھ مسافروں نے بتایا کہ “مسافروں کو گاڑیوں کے پیچھے لٹکانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کچھ مسافر چھت پر بیٹھ جاتے ہیں جبکہ کچھ کو ڈرائیور کی سیٹ کے پاس بٹھایا جاتا ہے، جو کہ حفاظتی اصولوں کے خلاف ہے۔انہوںنے بتایا کہ ضلع کے دور درارز علاقوں میں مسافر گاڑیوں کی کمی ہے جو مسافروں کو اوورلوڈ سفر کرنے پر مجبور کرتی ہے،” ایک مقامی مسافر جو اپنے گھر سے کپواڑہ ٹاؤن تک باقاعدگی سے سفر کرتے ہیں نے کہاکہ ڈرائیور مسافر گاڑیوں کی ناکافی تعداد کا “غیر مناسب” فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مسافر گاڑیوں میں غیر چیک شدہ اوور لوڈنگ خاص طور پر خواتین کو تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ لولاب کلاروس کے ایک طالب علم رمیز احمد وانی نے کہا کہ ٹریفک اور موٹر وہیکل ڈپارٹمنٹ کپواڑہ خاموش تماشائی بن کر گاڑیوں میں اوور لوڈنگ کو دیکھتا ہے۔اس ضمن میں متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے پر ایک اعلیٰ ٹریفک اہلکار نے دیہی علاقوں میں اوور لوڈنگ کے لیے مسافر گاڑیوں کی مناسب تعداد کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔اہلکار نے کہا کہ محکمہ کے پاس افرادی قوت کم ہے اور وہ ہر دیہی علاقے میں اپنے اہلکاروں کو تعینات کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوںنے لوگوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اوور لوڈ گاڑیوں میں چڑھنے سے گریز کریں۔