اساتذہ کی دلچسپی کے پیش نظر مالی بدحالی کے باوجودوالدین کوچنگ مراکز کا رخ کرنے مجبور
سرینگر // کے پی ایس / / کوچنگ مراکز پر بچوں کو مروجہ تعلیم کے مختلف مضامین کی تعلیم سے آراستہ کیا جارہا ہے اب تک اس کے بہت کم فائدے دیکھنے کوملتے ہیں۔ کیونکہ ان کوچنگ مراکز میں ان ہی بچوں کو وہی تعلیم دی جاتی ہے جو وہ اپنے اسکولوں یا کالجوں میں بھی بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں۔ جو اساتذہ صاحبان انہی اسکولوں میں تعینات ہوں جہاں سے یہ بچے کمربستہ ہوکر کوچنگ سنٹروں کا اعلیٰ الصبح یا شام دیر گئے رخ کرتے ہیں اور انہی اساتذہ سے ان مراکز پر تعلیمی مضامین کا درس لیتے ہیں اتنا فرق تو ضرور ہوتا ہے کہ وہاں پر اساتذہ سرکاری یا غیر سرکار ی طور کئی خزانوں سے تنخواہیں حاصل کرکے من و صلواہ تصور کرتے ہیں۔ جبکہ اساتذہ ٹیویشن سنٹروں پر بچوں کے والدین کی خون پسینے کی کمائی کا احساس رکھتے ہوئے اپنی بھر پور صلاحیتوں کو اجاگر کرکے بھر پور دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس لئے ہر کوئی طالب علم ان کوچنگ مراکز میں داخلہ لینے پرمجبور ہوجاتا ہے کبھی کبھار اگر موقعہ ملے تو امتحانی مراکز میں ان سنٹروں کے زیر تعلیم بچوں کی اس لحاظ سے مدد بھی کرتے ہیں ۔موجودہ چیلینجز کے ضمن ان تعلیمی ٹیویشن سنٹروں کی اگر چہ ہمارے سماج کے بچوں کو کافی ضرورت بھی ہے کیونکہ اسکولوں میں ان کے سیلبس کا حدف پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے غریب والدین بھی مالی طاقت نہ ہونے کے باوجود بھی قرض فرض کرکے بچوں کو ان کوچنگ مراکزپر بھیجنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ تب تو ان کوامتحانات میں کامیابی کیلئے امید کی کرن رہتی ہے اور یہ بھی حقیقت بھر مبنی ہے کہ مذکورہ سنٹروں میں تدریسی عملہ کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ وادی میں اب جدید اور تکنیکی تعلیم کا رجحان بڑھنے لگا ہے اور اس تکنیکی تعلیم جیسے انجینئرنگ کے مختلف شعبے ،ایم بی بی ایس ،ایم بی اے ، ہوٹل مینجمنٹ اور مختلف ہنروں کی تربیت کیلئے قائم کوچنگ سنٹروں کا خاصا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ اگر MBBS یا انجینئرنگ کے مختلف شعبوں سے متعلق بچے تربیت حاصل کریں اور اپنی ذہانت کو بروئے کا ر لاکر کامیابی حاصل کریں تو عین ممکن ہے یہ انجینئر یا ڈاکٹر یا دوسرے تکنیکی شعبے سے وابستہ تربیت یافتہ واقعی ہمارے سماج کیلئے ایک سرمایہ ثابت ہونگے۔ ان کوچنگ سنٹروں میں ماہر تعلیم وفن اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر بچوں کو بنیادی اصولوں اور قواعد سے جانکاری فراہم کرتے ہیں انہی کا یہ نتیجہ ہے کہ آجکل وادی میں کارخانے یا پرائیویٹ سیکٹر کے پروجیکٹ قائم کئے جارہے ہیں۔ اگر چہ سرکاری سطح پر یہاں کارخانہ سسٹم رائج کرنے کے وعدے سراب ثابت ہورہے ہیں لیکن زمینی سطح پر یہاں کے عام تربیت یافتہ و تعلیم یافتہ نوجوان اب بے روزگاری کے بدترین عیب سے چھٹکارا پانے کیلئے از خو تگدو کرکے چھوٹے بڑے کارخانے قائم کرتے ہوئے خود اور دوسروں کیلئے روزگار کے مواقعے فراہم کرتے ہیں ۔ماہرین تعلیم اور حساس طالب علموں نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ اگر اس کا غیر ضروری طور پیسے کمانے کی مشین تصور کیا گیا تو یہ کوچنگ سنٹر انسان کوفائدہ پہنچانے کے بجائے بربادی کی دہلیز پر لیجانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔ برعکس اس کے اگر ان سنٹروں میں تربیت دیکر نوجوانوں کو خود روزگار تلاش کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور سرکاری سطح پر بھی کہاکہ آشرواد حاصل ہوگا ان کے بقول ضرور یہ کوچنگ سنٹر بے روزگاری کے خاتمے کیلئے کافی سود مند ثابت ہونگے۔ ورنہ یہ فریب اور دھوکہ بازی کا دوسرا نام ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کوچنگ سنٹروں کے پراپریٹر حضرات آمدانی کے ذرایع تلاش کرنے اور اپنی دولت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان میں ایسے ہنروں کی تربیتی کورس ترتیب دئے جائیں جس سے کورس مکمل ہوتے ہی بچہ اپنی والدین کے کندھوں کا بوجھ اتار کر خود کمائی کیلئے تیار ہوسکے اور اس کیلئے وہی تربیت لازمی ہے جس کا معاشرے میں خاصااسکوپ ہو۔ تب تو یہ کوچنگ سنٹر کار آمد ثابت ہونگے اور یہ تربیت دینے والوں اور تربیت لینے والوں دونوں کیلئے سونے کی کان ثابت ہوگی۔










