مدر گام کولگام میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ، دونوں جگہوں پر محاصرہ جاری ، مزید نفری طلب
سرینگر//کولگام میں سنیچر کو فوج اور شدت پسندوں کے مابین دو تصادم آرائیوں میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا ہے جبکہ دونوں جگہوں پر آپریشن جاری ہے اور فوج نے مزید کمک طلب کرتے ہوئے وسیع علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے مدر گام میں شدت پسندوں کے ساتھ تصادم میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق کولگام کے مدرگام علاقہ میں جاری تصادم کے دوران ایک فوجی زخمی ہو گیا تھا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن اسے بچایا نہیں جا سکا۔ یہ تصادم سیکورٹی اہلکاروں اور فوج کی ایک تلاشی مہم کے دوران پیش آیا۔ علاقہ میں تلاشی مہم اب بھی جاری ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ علاقہ میں تین سے چارشدت پسندوں کے چھپے ہونے کی خبر ہے۔ فوج کے اہلکاروں کی تلاش سرگرمی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ علاقے کو پوری طرح سے گھیر لیا گیا ہے۔ خفیہ اِنپٹ کی بنیاد پر فوج اور پولیس نے مل کر یہ تلاشی مہم شروع کی تھی جس میں ایک فوجی جوان از جان ہو چکا ہے۔ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے چنیگام فریسال علاقے میں ہی ہفتہ کی سہ پہر ایک اور جگہ پر شدت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔دوسرے انکاونٹر کے بارے میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ ٹیم نے چنی گام میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔افسر نے بتایا کہ جیسے ہی فورسز کی مشترکہ ٹیم مشتبہ مقام کی طرف پہنچی، چھپے ہوئے مسلح افراد نے فورسز پر فائرنگ کردی، جس سے مسلح تصادم شروع ہوگیا۔دریں اثناء ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بھی مسلح افراد اور سیکورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کی۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے فوج نے کئی آپریشن کو انجام دیے ہیں۔ تصادم میں کئی دہشت گرد اور شورش پسند افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی کئی آپریشن کو انجام دیا گیا تھا۔ تقریباً 10 دن قبل ڈوڈہ میں سیکورٹی فورسز نے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان سبھی کا تعلق پاکستان سے بتایا گیا۔ ان کے پاس سے کثیر مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا تھا۔










