کولگام میں 300 کنال اَراضی پر میگا فروٹ منڈی قائم کی جارہی ہے ۔ وزیر زراعت

سری نگر//وزیر برائے محکمہ زرعی پیداوار جاوید احمد ڈار نے کہا کہ آر محلہ کولگام میں 300 کنال اراضی پر ایک میگا فروٹ منڈی قائم کی جا رہی ہے اور محکمہ کے حق میں اراضی کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔وزیر موصوف آج ایوان میں کسانوں کی فصلوں کے نقصانات کے معاوضے سے متعلق ممبر اسمبلی عبدالمجید بٹ کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے ۔اُنہوں نے بتایا کہ محکمہ نے ضلع اننت ناگ میں دو فروٹ و سبزی منڈیاں بٹینگو میں اورجبلی پورہ میں قائم کی ہیںجو فعال ہیں اور پورے ضلع کے کاشت کاروں اور تاجروں کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ ضلع کولگام میں ’’اَپنی منڈی‘‘ کے نام سے ایک منڈی نون مائی میں قائم کی گئی ہے جو ترقی کے مراحل میں ہے۔وزیر جاوید ڈارنے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر میں باغبانی فصلوں کو ہوئے نقصانات کا تخمینہ 531.06 ہیکٹر رقبے پر لگایا گیا ہے، تاہم ایس ڈِی آر ایف اوراین ڈِی آر ایف کے ضوابط کے مطابق صرف وہی نقصان قابلِ معاوضہ ہے جو 33 فیصد سے زیادہ ہو جو کہ 431.091 ہیکٹر کے رقبے پر محیط ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کشمیر کے اَضلاع اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ میں کُل 4.088 لاکھ روپے معاوضہ اَدا کیا گیا ہے۔وزیرموصوف نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ ضلع اننت ناگ میں 5000 میٹرک ٹن گنجائش والا ایک کنٹرولڈ ایٹموسفیر (سی اے) سٹوریج یونٹ موجود ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سی اے سٹورز پرائیویٹ تاجروںکے ذریعے قائم کئے جاتے ہیں اور حکومت ان کے لئے سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ سہولیت ہر اس کاروباری شخص کے لئے دستیاب ہے جو مقررہ اصولوں و ضوابط کے مطابق درخواست دینا چاہے۔وزیر موصوف نے بتایا کہ زیادہ تر سی اے سٹورز اِنڈسٹریل گروتھ سینٹر لاسی پورہ پلوامہ اور اِندسٹریل اسٹیٹ اگلر شوپیاں میں واقع ہے جب کہ دیگر اَضلاع میں باغبانی اور فصل کے بعد کے اِنتظام کے لئے صنعت و حرفت محکمہ کے ساتھ سیکٹر کے لئے مخصوص صنعتی اسٹیٹس قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اننت ناگ اور کولگام سمیت تمام اَضلاع میں کسانوں اور پھل اُگانے والوں کے لئے بیداری پروگرام اورسمینار منعقد کئے جا رہے ہیں تاکہ انہیں کولڈ سٹوریج اور دیگر بعد از فصل سرگرمیوں کے لئے دستیاب مراعات سے آگاہ کیا جا سکے۔اِس موقعہ پر ایوان میں جسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی اور شوکت احمد گنائی نے اس موضوع پر ضمنی سوالات بھی اُٹھائے۔