سری نگر//جنوبی ضلع کولگام کے دوردراز پہاڑی علاقہ دنیو سنیاڑی نورآباد میں محکمہ دہی ترقی بلاک ڈی کے مرگ کھیل کا ایک میدان تعمیر کرنے کے دوران درجنوں اخروٹ کے درکتوں کا صفایا کیا گیا ہے ۔اس دوران محکمہ مال نے بتایا ٹھیکہ دار کو اخروٹ کے درخت کاٹنے کے لئے تاحال اجازت نہیں ملی تھی ۔کشمیر نیوز سروس کے مطا بق ڈی کے مرگ علاقے کے نوجوانوں کو کھیل کود کیلئے ایک کھیل کا میدان تعمیر کرنے کے لئے مرکزی معاونت والی اسکیم منریگا کے تحت منظوری ملی تھی جس پر قریباً 10لاکھ روپے خرچہ آنے کا تخمینہ لگایا گیاہے اور جس پر گذشتہ دنوں مقامی ٹھیکدار نے فیلڈ پر کام کرنے کیلئے مشینری بھی لگائی یہاں بغیراجازت کے درجنوں اخروٹ کے درخت کاٹ ڈالے۔جس پر اراضی پر قبضہ جمائے ہوئے مالکان نے ٹھیکدار کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے تحصیلدار دمحال ہانجی پورہ کو مطلع کیا ہے۔۔اس حوالے سے جب نمائندے نے تحصیلدار دمحال ہانجی پورہ نیاز احمد سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ سنیاڑی دنیو کنڈی مرگ میں نوجوانوں کو کھیل کود کی سرگرمیوں کیلئے پلے گراؤنڈ بنانے کیلئے وہاں زمین کی نشاندہی کرکے محکمہ دہی ترقی کو میں نے بذات خود ڈمارکیشن کے اندر کام کرنے کی اجازت دی البتہ ٹھیکدار کو بھی ہدایت دی گئی کہ اخروٹ کے درختوں کو چھوڑ کر آپ فی الحال کام کرنے کے لئے کہا گیا اور ضلع ترقیاتی کمشنر کی طرف سے احکامات صادر ہونے کے بعد ہی مزید کارروائی کی جائے تاہم تحصیلدار کا کہنا ہے کہ اب کل میری نوٹس میں دنیو کنڈی مرگ کے ایک مقامی شہری نے یہ شکایت درج کی کہ ٹھیکدار نے غیر قانونی طریقے سے درجنوں چھوٹے بڑے اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کا الزام عائد کیا جس پر انہوں نے نائب تحصیلدار ناگام اور پٹواری کو جائے موقعہ پر جانے کی ہدایت دینے کے بعد رپورٹ طلب کی اور رپورٹ کے مطابق درجن سے زائد اخروٹ کے درخت کاٹے گئے تھے جس پر انہوں ٹھیکدار کیخلاف ایف آئی آر درج کے کی یقین دہانی کی۔










