کولگام میں جنگلی جانوروں کی جانب سے انسانی بستوں کا رخ

کولگام میں جنگلی جانوروں کی جانب سے انسانی بستوں کا رخ

خونخوار ریچھ نے دو خواتین پر حملہ کرکے انہیں زخمی کردیا ، لوگوں میں خوف و دہشت

سرینگر / سی این آئی // جنوبی ضلع کولگام میں جنگلی جانوروں کی جانب سے انسانی بستوں میں رخ کرنے کے بڑھتے واقعات کے بیچ ادا پورہ کولگام میں خونخوار ریچھ نے دو خواتین پر حملہ کرکے ان کو زخمی کردیا ۔ ریچھ کے حملے میں دو خواتین کے زخمی ہونے کی خبر سے علاقے کے لوگ سہم کر رہ گئے ہیں جبکہ محکمہ وائلڈ لائف نے ریچھ کو قابو کرنے کیلئے کارورائی شروع کردی ہے ۔سی این آئی کو نمائندے پرویز وانی نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام کے مختلف علاقوں میں جنگلی جانوروں کی موجودگی سے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پھیل چکا ہے ۔ نمائندے کے مطابق تازہ واقعہ میں ضلع کے ادا پورہ میں خونخوار جنگلی ریچھ نے دو خواتین پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں وہ شدید طو رپر زخمی ہو گئیں ۔ نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنگلی ریچھ علاقے میںنمودار ہوا گیا جس کے بعد وہاں دو خواتین پر حملہ کیا اور وہ زخمی ہو گئیں ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں خواتین کو علاج کیلئے نزدیکی طبی سنیٹر منتقل کیا گیا جہاں سے دونوں کو گورئمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ۔ نمائندے کے مطابق جنگلی جانور کے حملے کے بعد مقامی آبادی خوف و دہشت میں مبتلا ہو گئی ہے جبکہ محکمہ وائلڈ لائف نے متحرک ہوکر ریچھ کو ڈھونڈنے اور پکڑنے کیلئے علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔محکمہ وائلڈ لائف کے ایک سنیئر عہدیدار نے بتایا کہ ہماری ٹیمیں واقعے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد موقع پر پہنچ گئیں۔ ہم نے علاقے میں اور اس کے آس پاس اہلکار تعینات کر دیے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے جال کا استعمال کر رہے ہیں کہ جانور کو بحفاظت پکڑ لیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم مقامی لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جنگل والے علاقوں میں نہ جائیں یا اس وقت تک آس پاس میں اکیلے نہ گھومیں جب تک کہ ریچھ کو پکڑا نہ جائیں ۔ محکمہ جنگلی حیات نے کہا کہ وہ مزید واقعات کو روکنے کیلئے مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔