4 منشیات اسمگلر گرفتار :برائون شوگر، پوست اورچرس برآمد
کولگام،بڈگام//کولگام اور بڈگام پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف اپنی کاروائیاںجاری رکھتے ہوئے4 منشیات فروشوں کو گرفتارکرکے اُن کی تحویل سے ممنوعہ نشیلی مادہ برآمد کرکے ضبط کی۔جے کے این ایس کے مطابق پولیس تھانہ قاضی گنڈ کی پولیس پارٹی نے کنڈ گیٹ کے قریب ایک ناکا قائم کیا اور چیکنگ کے دوران اعجاز احمد بٹ ولد عبدالستار بٹ ساکن کھرگنڈ قاضی گنڈ نامی ایک شخص کو مشکوک حالت میں گھومتے ہوئے پاکر اس کی تلاشی لی ۔ ذاتی تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے2 گرام براؤن شوگر برآمد ہوئی اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔تھانہ پولیس قاضی گنڈ میں کیس ایف آئی آر نمبر13/2022قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔اسی طرح منشیات فروشوں کے خلاف ایک اور کاروائی کرتے کولگام پولیس نے لارئو کراسنگ پر ناکہ چیکنگ کے دوران سرور احمد بٹ عرف مولوی ولد محمد مقبول بٹ ساکن لابری پورہ کولگام میں مشکوک حالت میں گھوم رہاتھا جس کورکنے کا اشارہ کیا لیکن پولیس پارٹی کو دیکھ کر اس نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس کا پیچھا کیا گیا اور تدبیر سے پکڑا گیا۔ دوران چیکنگ اس کے قبضے سے 12کلو پوست کا بھوسا، 3گرام اور ڈیجیٹل وزنی مشین برآمد ہوئی۔ تھانہ پولیس کولگام نے اس واقعے کے سلسلے میں ایک کیس زیرایف آئی آر نمبر7/2022 درج کیا گیا ہے او ر اس کیس کی مذید تحقیقات شروع کی گئی ہے۔اسی دوران بڈگا م پولیس نے منشیات کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے2بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے ممنوعہ مادہ برآمد کیا۔بتھر بڈگام میں ناکہ چیکنگ کے دوران تھانہ بڈگام کی پولیس پارٹی نے مشکوک حالات میں گھومتے2افراد کو روکا۔ پولیس پارٹی نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے رکنے کی بجائے موقع سے بھاگنے کی کوشش کی تاہم پولیس پارٹی نے انہیں پکڑ لیا۔ ان کی ذاتی تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے 335گرام وزنی چرس جیسا مادہ برآمد ہوا۔ ان کی شناخت گلزار احمد پال ولد عبدالرحمن پال اور نثار احمد ڈار ولد عبدالرحمن ڈار ساکناںنارکرہ بڈگام کے طور پر ہوئی ہے۔تھانہ پولیس بڈگام نے کیس ایف آئی آر نمبر 21/2022این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کرکے مذید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔پولیس کمیونٹی کے اراکین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں منشیات فروشوں کے بارے میں کسی بھی معلومات کے ساتھ آگے آئیں۔ منشیات فروشی میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔










