کولکاتا میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں ”رحمۃ اللعالمین“ قومی کانفرنس کا انعقاد

آج فلسطین کا مسئلہ مسلم اور غیر مسلم کا نہیں، بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے، ڈاکٹر صادق الحسینی

حوزہ/ کولکاتا ہندوستان میں ۱۹ اکتوبر کو مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں رحمۃ للعالمین کے عنوان سے ایک عظیم کانفرنس راجا بازار کے رام موھون لائبریری ہال میں منعقد ہوئی، جس میں ہندو اور سکھ برادری سمیت اسلام کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ شریک ہوئے۔کولکتا ہندوستان میں ۱۹ اکتوبر صبح ۱۱ بجے سے سہ پہر ۳ بجے تک، مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں رحمۃ للعالمین کے عنوان سے ایک عظیم کانفرنس راجا بازار کے رام موھون لائبریری ہال میں منعقد ہوئی، جس میں ہندو اور سکھ برادری سمیت اسلام کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ شریک ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق، رحمۃ للعالمین کانفرنس کا آغاز مولانا تفضل حسین ملک نے قرآن مجید کی تلاوت سے کیا۔حلقۂ قادریہ کے سربراہ اور میناروٹی کمیشن کے ممبر پیر طریقت جناب مرشود علی القادری الحسنی والحسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام مسلم فرقوں میں اتحاد قائم کرنا اور اس اتحاد کی حفاظت کرنا اور اسے برقرار رکھنا ہم پر واجب ہے، کیونکہ اس کے ذریعے سے ہی معاشرے میں امن و آمان کا قیام ممکن ہے۔ جمعیت علمائے اسلام مغربی بنگال کے سکریٹری مفتی مولانا عبدالسلام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج مسلمانوں میں مزاحمت کی ہمت ہے تو یہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی تحریک کی وجہ سے ہے۔
ہمیں ظلم کے خلاف لڑنے کا حوصلہ کربلا نے دیا ہے اگر کربلا نہ ہوتی تو ہمارے پاس شاید ہی ظلم و ظالم کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ ہمیں مسلمانوں میں اتحاد اور بھائی چارگی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہیئے اور آپس میں اختلاف کرنا جائز نہیں ہے۔
کانفرنس سے تنظیم حسنین اور حضرت علی اصغر (علیہ السلام) امام بارگاہ کربلا نگر بولپور کے سربراہ پیر طریقت جناب رشادات علی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”کوئی بھی مسلمان نبی کی امت نہیں ہو سکتا جو اپنی آنکھوں سے امت رسول(ص) کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہے، لہٰذا امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شناخت کے لیے ہمیں پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد کرنا ہو گا اور اسی اتحاد سے ہی قبلہ اول اور سرزمین فلسطین آزاد ہوگی۔ تقریب بین المذاہب دہلی کے چیئرمین جناب ڈاکٹر مولانا صادق الحسینی نے فلسطین میں گزشتہ 13 دنوں سے جاری وحشیانہ قتل و غارت پر اپنے درد بھرا بیان کا اظہار کرتے ہوئے تمام بنی نوع انسان سے اس غیر انسانی درندگی کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ آج فلسطین کا مسئلہ مسلم اور غیر مسلم کا نہیں، بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے، لہٰذا جس کسی کے پاس انسانیت ہے وہ سب اس ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کو مظلوم فلسطینی عوام کے لیے صرف دعاؤں سے نہیں، بلکہ ان کا ہر میدان میں ہر ممکن تعاون کرکے اپنا سچا ایمان کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔