Omecron

کورونا وائرس کے ایک نئے ویریئنٹ ’نیوکوو‘ کو لے کر سائنسداں طبقہ متفکر

کورونا کے نئے ویریئنٹ ’نیوکوو‘ نے بڑھائی ٹینشن، 33 فیصد متاثرین کی ہو سکتی ہے موت

سرینگر// چینی شہر وْہان کے سائنسدانوں نے ایک تنبیہ جاری کی ہے جس میں ’نیوکوو‘ نامی کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ کے سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا ویریئنٹ بہت زیادہ تیزی سے پھیلنے والا ہوگا اور اس سے متاثر ہونے والے 33 فیصد متاثرین کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ادھر ماہرین طب نے کہا ہے کہ یہ ایک نیا وائرس ہے جو ابھی تک صرف جانوروں میں پایا جارہاہے اور اب تک اس میں انسانوں میں منتقل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کورونا وائرس کے ایک نئے ویریئنٹ ’نیوکوو‘ کو لے کر سائنسداں طبقہ متفکر ہے۔ چینی شہر وْہان کے سائنسدانوں نے ایک تنبیہ جاری کی ہے جس میں ’نیوکوو‘ نامی کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ کے سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا ویریئنٹ بہت زیادہ تیزی سے پھیلنے والا ہوگا اور اس سے متاثر ہونے والے 33 فیصد متاثرین کی موت واقع ہو سکتی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا کا یہ خطرناک ویریئنٹ جنوبی افریقہ میں ملا ہے۔ روس کی خبر رساں ایجنسی اسپوتنک کے مطابق کورونا وائرس کی یہ نئی شکل بہت تیزی کے ساتھ پھیلنے کی قوت رکھتی ہے اور اگر اس کا قہر پھیلا تو شرح اموات بھی بڑھے گی۔ حالانکہ ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’نیوکوو‘ وائرس نیا نہیں ہے۔ سب سے پہلے سال 2012 اور 2015 میں مغربی ایشیا کے ممالک میں اس کے اثرات کا پتہ چلا تھا۔ یہ سارس-کوو-2 کی طرح ہے جس سے انسانوں میں کورونا وائرس کا انفیکشن ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں نیوکوو کا نیا معاملہ چمگادڑ کے اندر دیکھا گیا ہے اور یہ ابھی صرف جانوروں میں ہی ملا ہے۔بایوریکسو میں شائع ایک نئے سروے سے پتہ چلا ہے کہ نیوکوو اور اس کا معاون پی ڈی ایف-2180-کوو انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ وْہان یونیورسٹی اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین کے مطابق اس نئے کورونا وائرس کو انسانوں کے خلیات کو متاثر کرنے کے لیے صرف ایک میوٹیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسٹڈی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نئے وائرس کی وجہ سے لوگوں کی اموات میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ادھر ماہرین طب نے بتایا ہے کہ یہ نیا وائرس نیو کو ایک نیا وائرس ہے جس کا کووڈ 19کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسلئے لوگوں کو اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے انہوںنے بتایاکہ وائرس ابھی تک صرف جانوروں میں ہی ملا ہے ۔