صدرفیصدی آبادی کو کووڈ ویکسین لگانا اور قوت مدافت کووڈ کے خلاف جنگ کیلئے ضروری
سرینگر//عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ کورونا کا یقینی اور مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہے۔عالمی ادارے کے سربراہ کے مطابق کورونا کے زیادہ پھیلاوکا مطلب زیادہ اموات ہے وائرس کے اثرات زیادہ خطرناک نہیں لیکن دنیا کے بہت سے علاقوں میں اب اموات میں انتہائی تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ کروناوائرس کے خلافتح کا اعلان قبل از وقت ہے آگے چل کر پریشانی کھڑا کرسکتا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق اُنہوں نے بتایا کہ تقریباً تمام خطوں کے 70 ممالک میں کورونا کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کوروناوائرس نے ہمیں ہر موڑ پر حیران کیا ہے، ہم اب تک کورونا وائرس سے متعلق کوئی حتمی پیش گوئی کرنے کیقابل نہیں ہوسکے ہیں۔ٹیڈروس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ کم آمدنی والیممالک میں تقریباً ایک بلین افراد کی ویکسینیشن نہیں ہوئی ہے، ابھی تک صرف 57 ممالک نیاپنی 70 فیصد آبادی کی کورونا ویکسینیشن مکمل کی ہے۔اُنہوں نے کورونا ویکسین لگوانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک اپنی70فیصد آبادی کی ویکسینیشن یقینی بنانیکے لیے مل کرکام کریں اور کوروناوبا کے خاتمیکے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہیلتھ ورکرز، کمزور قوت مدافعت، اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن لازمی کی جائے۔ٹیڈروس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ کورونا وبا جادوئی طور پر خود بخودختم نہیں ہوگی، ہمیں اس کے لیے کوشش جاری رکھنی پڑے گی۔اُنہوں نے کہا کہ فائزر نے5 سال سے کم عمر بچوں کے لیے کورونا ویکسین کی تیسری خوراک کو موثر قرار دے دیا ہے۔خیا ل رہے کہ فائزر کمپنی 5 سال سیکم عمربچوں کی ویکسین کی منظوری کے لیے رواں ہفتے ایف ڈی اے میں درخواست دے گی۔عالمی ادارے کے سربراہ کے مطابق کورونا کے زیادہ پھیلاوکا مطلب زیادہ اموات ہے وائرس کے اثرات زیادہ خطرناک نہیں لیکن دنیا کے بہت سے علاقوں میں اب اموات میں انتہائی تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ کروناوائرس کے خلافتح کا اعلان قبل از وقت ہے آگے چل کر پریشانی کھڑا کرسکتا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وبا کے خلاف فتح کا اعلان قبل از وقت ہے۔ اس حوالے سے سربراہ ڈبلیو ایچ او ٹیڈروس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے کورونا کے آگے ہتھیار ڈالنا یا فتح کا اعلان کرنا قبل از وقت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وائرس خطرناک ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے اس کا ارتقائی عمل ہو رہا ہے، کچھ ممالک کی طرف سے کورونا پابندیوں کو ختم کرنا تشویشناک ہے۔عالمی ادارے کے سربراہ کے مطابق کورونا کے زیادہ پھیلاو کا مطلب زیادہ اموات ہے، اومیکرون کے اثرات زیادہ خطرناک نہیں لیکن دنیا کے بہت سے علاقوں میں اب اموات میں انتہائی تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اومیکرون کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سے اب تک 9 کروڑ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جو سال 2020 کے کورونا کے مجموعی کیسز بھی زیادہ ہیں۔ سربراہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ ہم ممالک سے لاک ڈائون کی صورتحال میں واپس جانے کو نہیں کہہ رہے، تمام ممالک اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے ویکسین کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ وائرس شکلیں بدل رہا ہے، تمام ممالک ٹیسٹنگ اور نگرانی کا عمل جاری رکھیں، ہم وائرس سے نہیں لڑسکتے جب تک یہ نہ جان جائیں کہ یہ وائرس کیا کر رہا ہے۔یاد رہے کہ یورپی ملک ڈنمارک نے کورونا کیسز میں اضافے کے باوجود آج سے ملک میں تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، ڈنمارک کورونا پابندیاں ختم کرنے والا یورپی یونین کا پہلا ملک بن گیا ہے۔










