سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائر س کے مثبت معاملات میں نمایاں کمی رونماہونے کے بعد حالات میں بہتری آنے لگی ۔جس سے معمولات زندگی کافی عرصہ کے بعد بحال ہوگئی اور تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر تقریباً تمام ادارے اور دفاترمیں کام معمول کے مطابق چل رہا ہے۔چونکہ معمول کی زندگی گذار نے کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم جو گذشتہ تین برسوں سے تقریباً متاثر ہے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہے ہے ۔ درس و تدریس کا نظام متاثر ہوا ۔اگر چہ سرکاری ونجی اسکولوں میں تعینات اساتذہ نے محکمہ تعلیم کی نئی ٹرینڈ کو بروئے کار لاتے ہوئے ز وم ایپ کے ذریعے زیر تعلیم بچوں کوایک لائحہ عمل کے تحت متواتر طور آن لائن کلاسز پڑھانے کا عمل شروع کیا ہے اور مجموعی طور اساتذہ آن لائن پڑھانے میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیںاور بچے بھی اپنے اساتذہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔لیکن اس کے منفی اثرات اور نتائج بھی ہمارے سامنے عیاں ہیں ۔ آن لائن کلاسز کے ذریعے بچے گھر بیٹھے کم از کم اپنے اساتذہ اور کتابوں سے وابستہ رہتے ہیں۔اگر چہ یہ آن لائن سسٹم غریب اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کیلئے بار گراں اور مشکل ہے یونکہ ان کے پاس یا تو فون دستیاب نہیں ہے یا نیٹ ورک کامسئلہ درپیش ہے ۔تاہم بچوں کی اکثریت نے اپنے والدین یا دیگر رشتہ داروں کے فون حاصل کئے ہوئے ہیںاور زوم ایپ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھے یا مقامی اساتذہ نے کمیونٹی کلاسز کے تحت درس وتدریس کا عمل شروع کیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسز میں بچوں کے روشن مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں ہے ۔بلکہ مجموعی طورآن لائن کلاسز سے بچوں کی نشو نما اور اخلاقی قدریں متاثر ہونے لگی ہیں ۔ کیونکہ بچے موبائیل فونزپر پڑھنے کے بجائیدوسرے خرافات میں مصروف رہتے ہیں جو ان کے مستقبل کیلئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے ۔اب جہاں سرکار نے تمام اداروں میں کام کاج شروع کیا ہے تاہم تعلیمی اداروں کو مسلسل بند رکھنے کا کیا مطلب ہے ؟سرکار نے 31اگست تک اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا حالات میں بہتری آنے کے بعد والدین اور بچوں کو یہ امید کی کرن نظر آتی تھی کہ تعلیمی سال کے آخر پر اسکولوں اور کھولاجائے گا لیکن اعلانات اس کے برعکس سامنے آگئے کہ تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کیل حوالے توسیع کی گئی ۔اس سلسلے میںکشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے والدین نے بتایاکہ تعلیمی اداروں کو کھولنے میں کیا حرج ہے ؟ انہوں نے کہا کہ درس وتدریس کیلئے بچے اور استاد کا بالمشافہ ہونا لازمی امر ہے کیونکہ طالب علم پر استاد کی نگرانی رہتی ہے اورصحیح ڈھنگ سے پڑھائی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی تشکیل نو معاملہ کے بعدپیدا شدہ صورتحال یا عالمگیر وبائی بیماری کورونا وائرس کی مہاماری کی وجہ سے گذشتہ تقریباً دو تین برسوں سے اسکول بند ہیں جس سے ان کے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ اب کوڈکی تیسری لہر کے اندیشہ ہونے پر اسکولوں کوہی بند کیوں رکھا جائے ؟حالانکہ ایس او پیز کی عمل آوری اسکولوں یا کالجوں میں ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فون پر پڑھائی کے نام پرغلط استعمال پرجب والدین ان کو قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ذہنی کوفت کے شکار ہوجاتے ہیں ۔کیونکہ ایک طرف معصوم بچے پابند سلاسل ہوئے جس سے وہ اپنی طفلانہ حرکتوں کو انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں اور اس دوران وہ پڑھائی کے بجائے موبائیل فون کی دوسری ایپلی کیشنز کو استعمال میں لاکراپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیںجبکہ ان کوان اسباق سے آئندہ کیلئے واقف ہونا لازمی ہوتا ہے جب بچے کی بنیادصحیح ہوتو وہ مستقبل کے تمام مشکلوں اور چیلنجوں کا بہ آسانی حل نکال سکتے ہیں ۔ موبائیل فون ان کے مستقبل کی اب ضمانت معلوم ہوتی ہے لیکن بچوں کے استعمال کے اعتبار سے یہی ان کوتاریکیوں میں دھکیلنے کا سبب بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو قابو میں لانے کیلئے اسکولوں کو کھولنے کی ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیگر اداروں میں کام کاج بحال کیا گیا اسی طرح تعلیمی اداروں کو کھولنے کے احکامات صادر کئے جائیں اور ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جس سے ہماری نئی نسل کا کوروناوائرس جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رہ سکے اور ان کامستقبل تاریک ہونے کے بجائے تابناک اور روشن ثابت ہوجائے۔










