کوروناکے مثبت کیسز میں کمی ،مغل گارڈن ہنوز بند

سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس کی دوسری لہر میں ٹھہرائو کے بیچ سیاحوں کیلئے صحت افزاء مقامات میں پابندیاں کسی حد تک اٹھائی گئی جبکہ لاک ڈاون میں نرمی لاکر کاروباری سرگرمیاں بھی شروع ہوئیں تاہم مغل گاڑڈن کو ابھی تک نہیں کھولاگیا جس کے نتیجے میں تاجروں اور ہوٹل والوں میں تشویش پائی جارہی ہے ۔اس سلسلے میں مغل گارڈن سے منسلک نشاط ،شالیمار ،ہار ون اور چشمہ شاہی کے ہوٹل مالکان و دیگر تاجروں نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے گذشتہ دو برسوں سے ان کا کاروبار اور ان کی دکانیں وہوٹل بند پڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کوروناکیسز میں کمی واقع ہونے کے بعد سرکاری طور لاک ڈاون میں نرمی لائی گئی ۔کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئیں اور سرکاری وغیر سرکاری دفاتر میں کام کاج شروع ہوا جبکہ صحت افزاء مقامات میں بھی سیاحوں کی آمد شروع ہوئی ۔مقامی ،غیر ریاستی وغیر ملکی سیاح سیروتفریح کیلئے آتے رہتے ہیں لیکن مغل گارڈنز کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالات قدرے بہتر ہونے کے باجود بھی ان کو بند کیوں رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ مزیدخسارے اور نقصان کے شکار ہورہے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مغل گارڈنز بشمول نشاط ،شالیمار ،چشمہ شاہی اور ہارون کے باغات کو لھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ اطراف واکناف کے سیاح ان باغات میں سیرو تفریح کرسکیں گے جس سے ہوٹل مالکان اور تاجروں کی تجارتی سرگرمیاں بحال ہونگی اور ان کے نقصان کی بھرپائی ہوسکے گی ۔