سرینگر کے پی ایس//جموں وکشمیر بالخصوص وادی میں گذشتہ ایک ماہ سے کوروناوائرس کے مثبت معاملات سامنے آنے میں مزید اضافہ ہونے لگا ہے جو فکری مندی کی بات ہے اور اس مہلک اور وبائی بیماری سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانے اور جاری کردہ ایس او پیز پر عمل در آمد ناگزیر بن گیا ہے تاہم کئی دنوں سے تعداد میں متواتر طور کمی آرہی ہے ۔ آج یعنی سنیچرکے روز 24گھنٹوں کے دوران 1606کے ٹسٹ مثبت آئے جبکہ کوروناوائرس میں مبتلاء چار مریض لقمہ اجل بن گئے ۔اس طرح سے ایک دو ماہ کے عرصہ کے دوران ایک بار پھر کورونا وائرس بڑی تیزی سے پھیلنے لگا ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ اطلاعات کے مطابق کوروناوائرس کے مثبت معاملات میں اضافہ کی وجہ سے ایک بار پھر عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے اور حساس لوگوں کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ اب اس وبائی بیماری سے کس طرح نجات حاصل کرسکیں گے جبکہ عام لوگ ہزاروں کی تعداد میں اس مہلک بیماری سے جاں بحق ہونے اور لاکھوں کی تعداد میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔حالانکہ گذشتہ تین برسوں کے حالات سے وہ بخوبی واقف ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ مثبت معاملات سامنے آنے کے باوجود بھی گاڑیوں میں اور لوڈنگ ،بازاروں میں گہماگہمی کا سلسلہ جاری ہے ۔اگر اس موقعہ پر احتیاط سے کام لیا جائے تو ایک بار پھر کوروناوائرس جیسی وبائی اور مہلک بیماری کو مات دیا جاسکے گا ۔اس سلسلے میں حکومتی سطح پر پولیس ودیگر متعلقہ محکموں کے افسران وملازمین کو متحرک کیا گیا ہے اور شہری ودیہی علاقوں میں ہفتہ لاک ڈاون کانفاذ عمل میں لایا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوروناوائرس سے بچنے کیلئے لاک ڈاون اہمیت کا حامل ہے لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہماری نظروں کے سامنے ہر وقت گشت کررہے ہیں کہ لاک ڈاون سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوجاتی ہیں جس سے اقتصادی بحران کھڑا ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ ماضی میں نافذلالعمل لاک ڈاون سے اقتصادی تباہی اور بحران سے ابھی تک واپس نہیں آسکتے ہیں اور سنبھلنے کے باوجود بھی سنبھل نہیں پاتے ہیں کیونکہ نقصان کی بھرپائی نہیں ہوپارہی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈان سے ہوئے نقصان کے پیش نظر دوبارہ اس طرح کے اقدام اٹھانا بحر صورت مستقبل کیلئے نقصان دہ ثابت ہونگے ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ہفتے میں پانچ دن کھلا رکھنے کے بعد دو دن لاک ڈاون نافذ کرنے کا کیا مقصد ہے ؟انہوں نے کہا کہ کوروناوئرس سے بچائو کیلئے ایس اوپیز کی عمل آوری کیلئے دوسرے کئی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اگر چہ ضرورت کے مطابق اس کیلئے طاقت کا استعمال کرنا پڑے گا تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ادھر طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ لوگ کوروناوائرس کا ایک فرد ہونے تک جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے میں اپنا رول ادا کریں تاکہ اس مہلک اور وبائی بیماری سے نجات حاصل کیا جاسکے ۔ایک تجزیہ کے مطابق جموں وکشمیر کے80فیصد لوگ احتیاطی تدابیر اپنانے کے ماہر ہوئے ہیں اور وہ ہر اعتبار سے اپنے آپ کو اس وائرس سے بچانے کیلئے احتیاط کرتے رہتے ہیں ۔سرکاری طور لاک ڈاون کے بجائے لوگوں کو ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنے پر مجبور کیا جائے اور ایسے انتظامات رکھے جائیں جس سے اس میں مبتلا ہوئے مریضوں کی جان بچ سکے ۔










