سرینگر //عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس نے دنیا میں ایسی تباہی مچادی کہ اس مہلک بیماری میں کمی واقع ہونے کے باجود بھی ہر سطح پر حالات ابھی نہیں سنبھلتے ہیں تاہم کئی ممالک نے اس کو ایک چلیج سمجھ کر عوام کے تئیں ایسے اقدامات اٹھائے جس سے لوگ ایک بار پھر اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوئے ۔ان حکومتوں نے کورونا ریلیف یا کورونا پیکیج مختص کرکے متاثرین کے ساتھ ساتھ کاروباریوں ،تاجروں اور نجی اداروں کی مدد کی گئی اور مختلف قسم کے ٹیکسز میں رعایت دے کر ان کو دوبارہ مستحکم بنانے میں رول ادا کیا اور ان ممالک میں لاک ڈاون کے دواران ہوئے نقصانات کی بھرپائی بھی ہورہی ہے لیکن بھارت کی بیشتر ریاستوں وزیر انتظام علاقوں بشمول جموں وکشمیر میںحکومت اس طرح کے اقدام اٹھانے میں اب تک ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔کیونکہ لاک ڈاون کے دوران ہوئی تباہی کی بھرپائی کرنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔یہاں ایک طرف اقتصادی بحران نے لوگوں کو پریشان کررکے رکھ دیا ہے جبکہ دوسری طرف تجارتی سرگرمیاں بالکل محدود ہیں ۔کیونکہ بازاروں میں دکانیں کھلی ہیں اور عوامی گہماگہمی بھی ہے لیکن خریداری نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ لوگوں کے پاس خریدنے کی سکت باقی نہیں ہے ۔کورونا کی مہاماری کے دوران جہاں غریب عوام ستم زدہ رہا وہیں امیرزادوں کیلئے بھی یہ وقت کافی کٹھن اور مشکل تھا کیونکہ ا ن کے سجائے ہوئے خواب چکناچور ہوگئے اور ان کی حصول آمدنی میں یکایک ایسی تبدیلی رونما ہوئی جس سے ان کا اصل زر بھی متاثر ہوا اور اس میں رہی سہی کسر اب ان برسوں کے دوران مختلف ٹیکسز نے پوری کردی اور ان حالات میں جب سب لوگ سنبھالنے کی سوچ رہے ہونگے اسی اثناء میں ٹیکسز کی وصولیابی کیلئے متعلقہ محکمہ جات متعلقین کو تنگ وطلب کرنے میں سخت اقدام اٹھارہے ہیں تو ان کی ماضی میںہوئی تباہی وبربادی کی بھرپائی ممکن نہیں ہے بلکہ وہ لوگ ذہنی کوفت کے شکار ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ مضبوط بنانے کے حوالے کوئی لائحہ عمل ترتیب نہیں دے سکتے ہیں ۔جبکہ نجی اداروں کی حالت بھی یہی ہے ۔وادی کے شہر ودیہات سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے بتایا کہ لاک ڈاون میں نرمی کے بعد انہوں نے دکانیں کھول دی ہیں لیکن وہ خریداروں کی راہیں دیکھتے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کل دکاندار دس فیصدی کام بھی نہیں کرتا ہے جبکہ قرضوں ،بنک لون اور ٹیکسز کی تلوار ان کی گردنوں پر لٹکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اقتصادی بحران کے شکار ہیں اور کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔اس دوران کئی نجی اداروں سے وابستہ افراد نے بتایا کہ ان کے ادارو ں کوکوروناوائرس کی مہاماری نے اس نوعیت پر لاکھڑا کیا ہے کہ اب سمجھ نہیں آتا ہے کہ دوبارہ ان کو کس طر ح مستحکم بنایا جائے کیونکہ ان اداروں کی مالی حالت اتنی خراب ہوچکی ہے کہ سنبھالنا مشکل بن گیا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بازآبادکاری یا ان کے نقصان کی بھرپائی کیلئے ایک تو ٹیکسز کی ادائیگی میں رعایتی منصوبہ ترتیب دیا جائے ۔بنکوں شرح سود کو ختم کیا جائے اور ایسے پیکیج دئے جائیں جن سے یہ اپنے کاروبار کو دوبارہ چلاسکیں گے اور اداروں کو نئے سرے چلانے کے اہل ثابت ہونگے اور ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کا پالن بھی ہوسکے ۔










