سرینگر میں کیسز میں اضافہ کے پیش نظر کئی علاقوں میں لاک ڈاون کے نفاذ پر سوچ وچار
سرینگر//عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس کی دوسری لہر کی شدت میں ہزاروں لوگوں کی جانیں تلف ہوئیں جبکہ لاکھوں لوگ اس وبائی بیماری کی لپیٹ میں آئے تاہم دنیا کے دوسرے ملکوں اور بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح جموں وکشمیر میں بھی احتیاطی تدابیر اپنانے اور محکمہ صحت وپولیس کی سرگرمیوں اور انسانی جذبہ کے تحت خدمت کے بعد آہستہ آہستہ کیسز میں نمایاں کمی آنے لگی ۔یہاں تک یومیہ مثبت معاملات کا گراف ایک سو سے بھی نیچے چلاگیا اس طرح سے اس مہلک اور وبائی بیماری کا خاتمہ ممکن لگ رہا تھا تاہم اس دوران بھی ماہرین عوام سے تاکید کرتے رہے کہ لوگ کوروناوائرس میں مبتلا ایک مریض ہونے تک احتیاط سے کام لیں اور مرتب شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد کریں ۔انہوں نے پہلے ہی اس بات سے ہر ایک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایس او پیز پر عمل پیرا ہونے میں لاپرواہی برتی جائے اور ترتیب شدہ پروٹوکو ل کی خلاف ورزی کی جائے تو اس صورت میں کوروناوائرس کی تیسری لہر کی شدت کے ساتھ سامنے آنا طے ہے اور لاپرواہی کا ہی نتیجہ ہے کہ گذشتہ دنوں سے ایک سوکے گراف میں نمایاں اضافہ ہونے لگا جس سے عوامی حلقوں میں دوبارہ رتشویش کی لہر دوڑنے لگی اور خطہ کے دوسرے اضلاع کی نسبت سرینگر میں مثبت کیسز میںاضافہ ہونے لگا ہے جس پر ضلع انتظامیہ نے سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری طور کئی دو درجن سے زیادہ کورونا متاثرہ علاقوں کو کنٹونمنٹ زون کے دائرے میں لایا اور ان علاقوں میں ٹیسٹنگ اور ٹیکہ کاری عمل میں لائی جارہی ہے ۔ایس او پیز کے اپنانے میں لاپرواہی کے نتیجے میں انتظامیہ سخت اقدام اٹھاتے ہوئے کئی علاقوں میں لاک ڈاون کا نفاذ عمل میں لانے پر غور کررہی ہے ۔کوروناوائرس کے کیسز کے اضافہ کے نتیجے میں ایس ایس پی اور نے دیگر افسران کے ہمراہ سرینگر کے مختلف بازاروں کا معائینہ کیا اس دوران پروٹوکول کی خلاف ورزی کی پاداش میں کئی دکانوں کو موقع پر ہی سر بمہر کردیا ۔رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر سرینگر اعجاز اسد نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے شہرمیں رکاوٹیں کھڑا کرنے کے بجائے ان ہی علاقوں میں پابندیاں عائد کریں گے جہاں جہاں احتیاطی تدابیر اپنانے میں لاپرواہی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کی زیادہ سے زیادہ شکایات موصول ہونگی ۔ان علاقوں میں لا ک ڈاون کا نفاذ عمل میں لانے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور اسی لئے انتظامیہ نے کئی علاقوں کو کنٹونمنٹ زون قرار دیا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کی روکتھام کے حوالے سے سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سرینگر ڈاکٹرسید حنیف بلخی نے شہر کے لاچوک علاقے کے بازاروں میں پولیس و انتظامیہ کے افسران کے ہمراہ معائنہ کیا اور لوڈ اسپیکر پراعلان ہورہا تھا کہ ماسک پہنائو ۔انہوں نے اس دوران میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ احتیاط لازمی ہے تاکہ ہم تیسری لہر سے نجات حاصل کرسکیں ۔نوول کورناوائرس کے حوالے سے بھارت میں اب تک ہزاروں کیسز سامنے آئے ہیں اور آئے روز اس میں اضافہ دیکھنے کو ہی مل رہا ہے ۔اس طرح سے صورتحال میں ایک بار پھر تبدیلی رونما ہونے کاخطرہ ہے ۔اس ضمن میں انتظامیہ اور ماہرین کا اسی بات پر اتفاق ہے کہ لوگ اوائل میں ہی احتیاط برتنے کی کوشش کریں اور مرتب شدہ ایس او پیز پر سختی کے ساتھ عمل در آمد کرے تاکہ ایسے حالات سامنے نہیں آئیں گے جس سے مزید پریشانیاں لاحق ہونگی اور کورونا کی دوسری لہر کی طرح اس میں پھر لوگوں کی کثیر تعداد زد میں آئے گی ۔یہ بات واضح ہے کہ ابھی لوگ پچھلے لاک ڈائونوں میں ہوئے نقصان کی بھرپائی کرنے سے قاصر ہیں تو اب خدانخواستہ دوبارہ ہمہ گیر لاک ڈاون اقتصادی طور لوگوں کو زمین بوس کردے گا ۔اس لئے عوام اس سے پہلے سنجیدہ ہوجائے کہ دوبارہ کوروناوائرس کی لپیٹ میں آجائیں احتیاطی تدابیر اپنائیںاور ایس او پیز پر مکمل طور عمل درآمد ہوجائے تاکہ ایسے حالات سامنے نہیں آئیں گے ۔










