سری نگر//چرارشریف کے دور افتادہ گاؤں کنہ دجن میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں لوگ گندے ندی نالوں کا پانی پینے پر مجبور ہو گئے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وسطی ضلع بڈ گام کے تحصیل چرارشریف سے وابستہ دور افتادہ گاؤں کنہ دجن گزشتہ تین ہفتوں سے پینے کے پانی سے محروم ہے جس کی وجہ سے لوگ پینے کے پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ کنہ دجن (اے) ڈب محلہ کے رہائشی لوگ پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے سبب سخت مشکلات میں مبتلا ہیں کنہ دجن ( اے) میں مقیم وادی کشمیر کے نامور شاعر اور قلمکار غلام رسول جوش نے بتایا کہ پینے کے پانی کی نایابی نے پورے گاؤں میں سنگین رخ اختیار کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے گاؤں کے رہائشی سخت پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں جبکہ متعلقہ محکمہ کے ذمہ داران مذکورہ گاؤں کی اورعدم توجہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس حوالیسے بات کرتے ہوئے ایکزیکیٹو انجینئر محکمہ جل شکتی سب ڈویژن چرار شریف مسٹر جان مسعود نے بتایا کہ وہ پانی کی عدم دستیابی کا ازخودجائزہ لیکر گاؤں میں پینے کیپانی کی معقول سپلائی ممکن بنانے کیلئے موثر کاروائی عمل میں لائینگے مقامی لوگوں نیلفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گاؤں میں پینے کے پانی کی سپلائی بحال کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اْٹھائیں تاکہ لوگوں کو راحت پہنچ سکیں۔










