کنگن کے نوجوان کی نالہ سندھ میں ناقابل یقین بہادری

3نوجوانوں کوڈوبنے سے بچالیا، کہاابتک 90 انسانی جانیں بچائیں 51نعشیں برآمدکیں

گاندربل//ایک انسان میں بہادری ،ہمت اورعزم صمیم ہوتووہ کسی بھی طوفان سے مقابلہ کرسکتا ہے ،اورقیمتی زندگیوں کوبچاسکتا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق وسطی ضلع گاندربل کے علاقہ کنگن کے رہنے والے ایک نوجوان بشیراحمدمیر نے بدھ کے روز اُسوقت بہادری اورجوانمردی کی ایک اورمثال کی ،جب اُس نے طغیانی زدہ نالہ سندھ میں کودکرتین نوجوانوں کوڈوبنے سے بچالیا ۔ایک ویڈیوسوشل میڈیا پرگشت کررہاہے ،جس میں ایک نوجوان طغیانی زدہ نالہ سندھ میں بغیرکسی حفاظتی سامان کے کودجاتاہے اوراُن تین نوجوانوں کی تلاش میں تیزی کیساتھ بہنے والے پانی کی لہروں سے جنگ کرتا ہے ،جونوجوان نالہ سندھ میں ڈوب گئے تھے ۔کنگن کے رہنے والے نوجوان بشیراحمد میر کوجب پتہ چلاکہ تین مقامی نوجوان نالہ سندھ میں ڈوب رہے ہیں تواُس بہادر نوجوان نے بغیر کوئی حفاظتی سامان کے نوجوانوںکوبچانے کافیصلہ کیا۔وہ جب نالہ سندھ میں کود گیاتواس نالے میں طغیانی آئی تھی اوریہ دریا نما نالہ تیزی کیساتھ بہ رہاتھا ۔بشیراحمد میر نالہ سندھ میں اُترا تووہ پانی کی لہروں سے ٹکراتارہا ،اورمخالف سمت سے پانی کے تیز بہائو سے مقابلہ کرتے کرتے اسکی ہمت نہیں ٹوٹی اوروہ ڈوبنے والے نوجوانوںکوتلاش کرنے میں مصروف عمل رہا۔بشیر احمدکوکافی مشقت کرناپڑی لیکن وہ اپنے اس عظیم مقصدمیں کامیاب ہوگیا۔اُس نے تینوں نوجوانوںکوایک ایک کرکے نالہ سندھ سے نکال کرکنارے تک پہنچادیا۔کنگن کے سترونہ علاقہ میں پیش آئے اس حادثے کے عینی شاہدین نالہ سندھ کے کنارے ہکابکا ہوکر بشیراحمدمیر کی بہادری کودیکھ رہے تھے ،اوربعض مواقعوں پر لوگوں کولگاکہ بشیراحمد کوبھی نالہ سندھ اپنے ساتھ بہالے جائے گا۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ پہلاموقعہ نہیں ،جب بشیراحمد نے ایسی بہادری دکھائی ہو،وہ اسے قبل کئی جانیں بچاچکاہے ۔خودبشیراحمدکاکہناتھاکہ اُس نے نہ صرف 90کے لگ بھگ لوگوںکی جان بچائی ہے بلکہ ابتک وہ نالہ سندھ سے 51نعشیں بھی برآمدکرچکاہے ۔اس بہادر نے بتایاکہ جب بھی یہاں ایسی کوئی بچائو کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایس ڈی آرایف والے مجھے بلاتے ہیں اورمیں اُن کیساتھ بچائو کاری میں حصہ لیتاہوں ۔بشیراحمد میر کاکہناتھاکہ وہ تیرنا جانتاہے اوراسے اُس کوپانی میں اُتر کر بچائو کاری میں کافی آسانی ہوتی ہے ۔اُس نے کہاکہ میں بچپن میں ہی تیرناسیکھ گیاتھا ،اورمیں کسی بھی نالے ،دریایا پھر جھیل میں تیرسکتاہوں ۔تاہم اُس نے کہاکہ کسی جھیل میں تیرناآسان ہوتا ہے لیکن نالہ سندھ جیسے کسی تیز بہائو والے نالے یادریامیں تیرنا اورپھرکسی کوڈوبنے سے بچانا کافی مشکل ہوتاہے ۔