کٹھوعہ//کمشنر سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج مندیپ کور نے ڈی سی آفس کمپلیکس کے کانفرنس ہال میں منعقدہ میٹنگ کے دوران دیہی ترقی اور پنچایتی راج محکمہ کی جاری سکیموںکی عمل آوری کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں چیئرمین ضلع ترقیاتی کونسل کٹھوعہ مہان سنگھ، ضلع ترقیاتی کمشنر کٹھوعہ راہل یادو ، مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم ڈاکٹر سیّد سحرش اَصغر ، ڈائریکٹر دیہی ترقی محکمہ جموں محمد ممتاز علی ، ڈی ڈی سی اراکین ، چیئرمین بی ڈی سی ، بی ڈی اواور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ اِنسانی وسائل کی صورتحال ، یوٹی کیپکس بجٹ ، پی ایم اے وائی ( جی ) ، منریگا ، سوچھ بھارت مشن ( جی) ، آر جی ایس اے ، چودھویں مالی کمیشن، آئی ڈبلیو ایم پی ، اُمید ، حمایت اور دیگر محکمانہ سکیموں سے متعلق اَمور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔کمشنر سیکرٹری نے ضلع میں دستیاب اِنسانی وسائل کا جائزہ لیتے ہوئے یقین دِلایا کہ بی ڈی او اور جے اِیز کی خالی اَسامیوں کو جلد پُر کیا جائے گا۔اُنہوں نے بلاک وائز فنڈس کی دستیابی کے بارے میں بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ۔ اُنہوں نے بی ڈی اوز کو ہدایت دی کہ وہ کاموں کی الاٹمنٹ کے مناسب طریقے پر عمل کریں تاکہ ترقیاتی کاموں میں کوئی رُکاوٹ نہ آئے۔ اُنہوں نے تمام بی ڈی سیز ، ڈی ڈی سیز اور پی آر آئیز سے ان کے متعلقہ علاقوں میں کاموں کی نشاندہی کے لئے صلاح و مشورہ کرنے کو کہا۔کمشنر سیکرٹری نے ڈی ڈی سی اور بی ڈی سی کے دفاتر کی فراہمی ، بار بار آنے والے اخراجات اور فرنیچر کے بارے میں ضروری منظور یوں کے لئے ڈی پی آر بنانے کے لئے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایات جاری کیں۔اُنہوں نے جاری کاموںکی سست رفتار ی کا نوٹس لیتے ہوئے معیار کو یقینی بناتے ہوئے مقررہ وقت کے اَندر کاموں کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ متعلقہ اَفراد کی معلومات کے لئے محکمانہ پورٹل پر مکمل شدہ کاموں کی تفصیلات اَپ لوڈ کریں۔اُنہوں نے دیہی ورثے کے احیائے اقدام پر بات چیت کرتے ہوئے اَفسران پر زور دیا کہ وہ اَپنے اَپنے علاقوںمیں دو ورثے کاموں کی نشاندہی کریں تاکہ روایتی اور ثقافتی شناخت کو پیش کیا جاسکے جس کے نتیجے میں ان کے تحفظ میں مدد ملے گی۔اُنہوں نے رُکے ہوئے منصوبوں کے معاملے پر متعلقہ اَفسران کو پی آر آئیز کی مداخلت سے تنازعات والے معاملات کو جلد حل کریں۔کمشنر سیکرٹری نے کٹھوعہ ضلع میں دیہی ترقی اور دیگر ریاستوں کے بہترین طریقوں کی نقل کے سلسلے میں کاموں ، سکیموں ، پروگراموں ، پالیسیوں وغیرہ کی بہتر تفہیم کے لئے نمائشی دوروں کی منصوبہ بندی ، کپسٹی بلڈنگ اور پی آر آئیز کی تربیت پر بھی زور دیا۔کمشنر سیکرٹری نے بہتر ربط اور تامل میل ، معلومات ی ترسیل اور اس کی تازہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقتوں میں تمام پنچایت گھروں کو بھارت نیٹ سے اِنٹرنیٹ کنکٹیوٹی فراہم کی جائے گی۔اُنہوں نے مہاتماگاندھی نریگا کا جائزہ لیتے ہوئے بی ڈی اوز کو ہدایت دی کہ وہ ایک ہفتہ کے اَندر ایم آئی ایس پورٹل پر مکمل شدہ کاموں سے متعلق ڈیٹا کو اَپ ڈیٹ کریں۔اُنہوں نے اے سی ڈی اور بی ڈی اوز کو سوچھ بھارت ابھیان کے تحت کام کرنے کی تلقین کی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پی آر آئیز کی مدد سے ایس بی ایم ( جی ) ، آئی ایچ ایچ ایل کے تحت فائدہ اُٹھانے والوں کی شناخت کی جائے ۔اُنہوں نے تمام شراکت داروں کی فعال شرکت سے بیک ٹو وِلیج ، آئی ڈبلیو ایم پی ، اُمید ، بی اے ڈی پی کے تحت کاموں میں سرعت لانے پر زور دیا۔اِس سے قبل بذریعہ پاور پوائنٹ پرزنٹیشن جاری سکیموں پر تازہ ترین پیش رفت کیا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ۔ اِس کے علاوہ مالیاتی اور طبعی حصولیابیوں ، فنڈس کی دستیابی ، نان کنورجنسی ورکس ، کنورجنسی ورکس وغیرہ پر غور و خوض ہوا۔دورانِ میٹنگ کمشنر سیکرٹری نے ڈی ڈی سیز ، بی ڈی سیز اور پی آر آئیز کی طرف سے پیش کئے گئے مطالبات کو بھی بغور سنا اور انہیں اس کے فوری حل کا یقین دِلایا ۔










