ریاستی درجہ بحالی، قیدیوں کی وطن واپسی اور معاشی ریلیف پر دیا زور
سرینگر//یو این ایس// نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان چودھری رمضان نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں منعقدہ تمام سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈران کی میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر سے متعلق متعدد اہم سیاسی، قانونی اور معاشی مسائل اجاگر کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔یو این ایس کے مطابق اس اہم میٹنگ میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، وزیر صحت و راجیہ سبھا کے قائدِ ایوان جے پی نڈا، وزیر پارلیمانی امور کرن رجیجو، وزیر قانون ارجن رام میگھوال، وزیر مملکت ایل مرگن اور مختلف سیاسی جماعتوں کے فلور لیڈران شریک تھے۔ذرائع کے مطابق چودھری رمضان نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا پرزور مطالبہ کیا اور کہا کہ عوامی مینڈیٹ کے باوجود منتخب حکومت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا، جس کی وجہ سے حکومت عوام کے تئیں اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہے۔انہوں نے قیدیوں کے مسئلے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے وہ قیدی جو یونین ٹیریٹری سے باہر مختلف جیلوں میں بند ہیں، انہیں واپس مقامی جیلوں میں منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں قانونی معاونت تک مناسب رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے معمولی جرائم میں گرفتار افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ طویل حراست انسانی حقوق کے منافی ہے۔حال ہی میں دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رمضان نے کہا کہ دہشت گردی کی سخت مذمت کی جانی چاہیے، مگر اس کی آڑ میں مزدوروں، طلبہ اور تاجروں کو ہراساں کرنا قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بے گناہ شہریوں کو اجتماعی شبہے کا نشانہ نہ بنایا جائے۔معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے قومی شاہراہ کی طویل بندش، ڑالہ باری اور بے موسم بارشوں سے متاثرہ کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا مطالبہ کیا اور کسان کریڈٹ کارڈ قرضوں کی معافی کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد سیاحتی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے، اس لیے اس شعبے کے لیے قرضوں پر سود اور وصولی کو عارضی طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔مزید برآں، انہوں نے منریگا اسکیم کے تحت 40 فیصد ریاستی شراکت داری کی شرط پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر جیسے مالی طور پر کمزور خطے اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے، جس سے روزگار پیدا کرنے کے مقصد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔










