عدالت عظمیٰ کاکرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف، درخواستوں پر فوری سماعت کرنے سے صاف انکار
سری نگر//سپریم کورٹ نے جمعرات کو کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس(کرناٹک ہائی کورٹ ) نے کلاس روم کے اندر حجاب پہننے کی اجازت مانگنے والی عرضیوں کو خارج کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ہیڈ اسکارف اسلام میں ضروری مذہبی مشق کا حصہ نہیں ہے۔جے کے این ایس کے مطابق چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس کرشنا مراری پر مشتمل بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ دیودت کامت کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں یہ کہتے ہوئے کہ امتحانات ہو رہے ہیں فوری فہرست طلب کرنے کا ذکر کیاگیا ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والے دونفری بنچ نے کہا کہ امتحانات کا اس مسئلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نیاستدعاکی کہ وہ (ایڈوکیٹ دیودت کامت)اس معاملے کا بار بار ذکر کر رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے وکیل کامت سے کہا کہ وہ اس معاملے کو حساس نہ بنائیں۔ایڈوکیٹ دیودت کامت نے عدالت عظمیٰ سے کہاکہ یہ لڑکیاں ہیں، امتحانات 28 تاریخ سے ہیں۔ انہیں اسکولوں میں داخلے سے روکا جا رہا ہے۔ ایک سال گزر (ضائع)جائے گا۔تاہم سپریم کورٹ نے درخواست کو قبول نہیں کیا۔خیال رہے 16 مارچ کو، عدالت عظمیٰ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو ہولی کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لئے فہرست بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس نے کلاس روم کے اندر حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواستوں کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا تھا کہ ہیڈ اسکارف اسلام میں ضروری مذہبی مشق کا حصہ نہیں ہے۔عدالت عظمیٰنے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے کی عرضیوں کا نوٹس لیا تھا، جو کچھ طلباء کی طرف سے پیش ہوئے تھے، کہ آنے والے امتحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری سماعت کی ضرورت ہے۔فل بنچ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کچھ درخواستیں دائر کی گئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت حجاب پہننا اسلامی عقیدے میں ضروری مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے۔کرناٹک ہائی کورٹ نے اڈوپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی گرلز کالج کی مسلم طالبات کے ایک حصے کی طرف سے کلاس روم کے اندر حجاب پہننے کی اجازت دینے کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اسکول یونیفارم کا نسخہ صرف ایک معقول پابندی ہے، آئینی طور پر جائز ہے جس پر طلبہ اعتراض نہیں کرسکتے۔










