آفتاب اظہر صدیقی
ہمارا کشن گنج جو پہلے پورنیہ ضلع میں شامل اس کا ایک سب ڈویژن ہوا کرتا تھا، 1990ء میں اس کو مستقل ضلع کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ ضلع اتردیناجپور کا بھی بہت سا حصہ پہلے کشن گنج میں تھا جسے بنگال میں شامل کردیا گیا۔ کشن گنج آزادی ہند سے پہلے اور بعد کے ہر دو دور میں ادبا اور شعرا کو اپنی گود میں لیے رہا؛ لیکن مرور ایام کے پردوں اور قدر دانوں کی لاپرواہی نے اس کی ادبی تاریخ کا اکثر حصہ ماضی کی گمشدہ وادیوں میں چھوڑ دیا ہے، کشن گنج جو کبھی نوابوں کا شہر ہوا کرتا تھا، جہاں کے کھگڑا میلے کے چرچے ہندوستان بھر میں ہوا کرتے تھے، جہاں سے شاعروں کو شہرت کی بلندی اور ترقی کی راہ ملا کرتی تھی، آج شاید ہی کچھ لوگ اس کی ادبی تاریخ سے واقف ہوں گے، سچ ہے کہ جب قومیں اپنی تاریخ بھلا دیتی ہیں تو وہ اپنے تاریخی اثاثوں کو بھی محفوظ نہیں رکھ پاتیں، ادب اس سرزمین کا قیمتی سرمایہ تھا، شاعری یہاں خود پر ناز کیا کرتی تھی؛ لیکن آج ان خزانوں کی باتیں اور خزانہ داروں کے قصے سنانے والا دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا، کشن گنج میں موجود "بزم ادب اردو لائبریری" کی بوسیدہ صورت حال ہمیں اس بات کا مزید احساس دلاتی ہے کہ نسل نو کو اب نہ تو اپنے ادب کا شوق رہا اور نہ اپنے لسانی اثاثے کی قدر۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کشن گنج کی سرزمین کسی بھی زمانے میں شعر و ادب کے اجالوں سے خالی نہیں رہی، یہاں کا ادب کبھی آفتاب و ماہتاب کی طرح آسمان کی بلندیوں پر رہا تو کبھی شمع محفل کی طرح پروانوں کے جھرمٹ میں؛ لیکن یہ روشنی کبھی گل نہیں ہوئی، ادب کے اس دیار میں چراغ جلتے رہے ٹمٹماتے رہے، لیکن بجھے نہیں، تاریکی کا خدشہ ہوا تو جگنوؤں نے اپنا جوہر دکھایا، آج بھی اس سرزمین پر کچھ ایسے، ستارے، کچھ ایسے چراغ، کچھ ایسے جگنو موجود ہیں جو ادب کی محفلوں میں روشنی بکھیرنے کے لیے کافی ہیں۔
کچھ ہفتوں پہلے ماسٹر سفیر الدین راہی کے توسط سے ان ہی کے ادارہ “اوریکل انٹرنیشنل اسکول کشن گنج” میں منعقد ایک “تقریب رسم اجرا” میں دعوت ہوئی، مولانا عبدالماجد راہی قاسمی اور مولانا شمیم ریاض ندوی کے ہمراہ حاضری ہوئی، یہ تقریب کشن گنج کے ہونہار شاعر اور ادیب جناب مستحسن عزم کے مجموعۂ کلام “ہموار نہیں کچھ بھی” کی رسم اجرا کی تقریب تھی، سیمانچل کے مختلف علاقوں سے اور بھی ادبی دیوانے تشریف لائے ہوئے تھے، سب کی سنی، کچھ اپنی کہی، تقریب کامیاب رہی۔ کچھ نئے شاعروں اور قلم کاروں سے ملاقات ہوئی، مستحسن عزم کے اس مجموعۂ کلام کو دیکھ کر، اس تقریب رسم اجرا میں بیٹھے ہوئے ادب زادوں کو دیکھ کر یقین کے دائرے میں یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ کشن گنج میں ادب زندہ رہے گا ان شاء اللہ!
موجودہ وقت میں مستحسن عزم اور ان کی طرح کشن گنج سے تعلق رکھنے والے درجنوں ایسے شعرا ہیں جو ادب کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں، ان میں کچھ اسکول کالج اور یونیورسٹیوں سے منسلک ہیں تو کچھ مدارس و مکاتب میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے حجروں میں بیٹھ کر ادب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
مستحسن عزم کے اس مجموعۂ کلام پر پورنیہ کے نامور ادیب جناب احسان قاسمی کا تبصرہ پڑھنے لائق ہے، جس میں انہوں نے کشن گنج کی ادبی تاریخ پر بھی مختصر سی روشنی ڈالی ہے، حسن اتفاق کہ وہ بھی اس رسم اجرا کی تقریب میں تشریف فرما تھے؛ بلکہ مہمان خصوصی کے طور پر مدعو تھے، میری خوش قسمتی ہوئی کہ پہلی بار ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، آج جب میں اس مجموعۂ کلام میں ان کا تبصرہ پڑھ رہا تھا تو ان سے رابطہ کیے بغیر نہ رہا گیا، فون کیا تو بہت اچھے انداز میں گفتگو ہوئی، میں نے ان کے تبصرے کی تعریف کی، انہوں نے بتایا کہ وہ سیمانچل کے شعرا پر باضابطہ لکھنے کا کام کر رہے ہیں، اللہ کرے کہ ان کی یہ کاوش جلد سے جلد پایۂ تکمیل کو پہنچے۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں “سیمانچل کے افسانہ نگار” کا نام قابل ذکر ہے۔
جناب احسان قاسمی نے محمد رضوان آزاد کی کتاب “نقوش فرید” پر بھی شاندار تبصرہ تحریر کیا ہے، اسی کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جس میں انہوں نے کشن کی ادبی تاریخ کی ذرا سی جھلکی پیش کی ہے۔
“میلہ مشاعرہ کی روایت:
راجگان کھگڑہ کے ذریعہ ہر سال منعقد کیا جانے والا کھگڑہ میلہ ہری ہر کشیتر سون پور میلہ کے بعد شمالی بہار کا سب سے بڑا میلہ ہوا کرتا تھا۔ اس میں عام ضروریات کی اشیا کے علاوہ گھوڑے، ہاتھی، اونٹ وغیرہ جانوروں کی بڑے پیمانے پر خرید وفروخت کا سلسلہ ایک ماہ سے زائد عرصہ تک چلتا رہتا تھا۔ نواب صاحبان کی دیکھ ریکھ میں میلے میں “میلہ مشاعرہ” کی روایت قائم کی گئی تھی۔ میلہ مشاعرہ کے انعقاد میں مولانا حکیم رکن الدین دانا ندوی سہسرامی اور جناب میاں محمد احسان صاحب علیگ رئیس پدم پور ( تھانہ: دیگھل بینک، کشن گنج) کی محنت کا بڑا ہاتھ تھا۔ انجمن ترقی اردو کشن گنج شاخ جس کا قیام 1927ء میں عمل میں آ چکا تھا، کی جانب سے 1940ء میں ایک مجلہ “تحفۂ احسان” یعنی شعرائے کشن گنج کی مختصر تاریخ اور کھگڑہ اسٹیٹ کے اس میلہ مشاعرہ کی تمام غزلوں کا مجموعہ جو بابت 1940ء اسٹیٹ کے تھیئٹر ہال میں نہایت شان و شوکت سے منعقد ہوا، مع تذکرۂ شعرائے مشاعرہ جو اس زمانہ میں دادِ سخن لے رہے تھے چوراسی صفحات پر مشتمل مولانا حکیم رکن الدین دانا ندوی سہسرامی کی ادارت میں شائع ہوا تھا۔
اس مجلہ میں کشن گنج سے تعلق رکھنے والے بارہ شعراے کرام کا مختصر تعارفی خاکہ اور طرحی / غیر طرحی کلام شامل ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔
۱ ۔ مولانا حکیم رکن الدین دانا ندوی سہسرامی: کشن گنج
۲ ۔ مولوی محمد سلیمان سلیماں: پلاسمنی، تھانہ: بہادر گنج
۳ ۔ مولوی عبدالواجد بسمل بی اے، بی ایل: پلاسمنی، بہادر گنج
۴ ۔ مولانا محمد اسمعیل ناصح: ایڈیٹر “آئینہ” کشن گنج
۵ ۔ ڈاکٹر سید عبدالرشید اختر منعمی ابوالعلائی گیاوی، ویٹنری ڈاکٹر کشن گنج
۶ ۔ مولوی محمد رفیق زاہدی عابد بلیاوی
۷ ۔ حکیم سید مظہر علی مظہر بلگرامی: کشن گنج
۸ ۔ مولانا سید شاہ محبوب احمد احمد
۹ ۔ منشی عبدالحق
۱۰ ۔ مولوی محمد بہاءالدین اثر : ہیڈ مولوی، ہائی انگلش اسکول، کشن گنج
۱۱ ۔ مولوی جنت حسین قمر مظفرپوری: سیکنڈ مولوی، ہائی انگلش اسکول، کشن گنج
١٢ ۔ منشی محمد ابراہیم وفا: التاباڑی، تھانہ- بہادر گنج
مجلہ کا دوسرا باب جو “تاریخ شعرائے پورنیہ” پر مشتمل ہے، اس میں بھی کشن گنج سب ڈویژن سے تعلق رکھنے والے مندرجہ ذیل شعراے کرام کی تفصیل درج ہے۔
۱ ۔ مولوی نورالحسین خاک مرحوم: ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ سب رجسٹرار، ہلدی کھورا
۲ ۔ مولوی عبدالعزیز عزیز مرحوم: پلاسمنی
۳ ۔ منشی مہتر علی صبا مرحوم: پلاسمنی
۴ ۔ حاجی شمس الدین مرحوم: پلاسمنی
۵ ۔ مولوی سید ابوالقاسم اختر بلگرامی: کشن گنج
۶ ۔ حکیم سید آغا علی احقر بلگرامی: کشن گنج
۷ ۔ احمد حسین شمس بمن گرامی: کشن گنج
۸ ۔ محبوب الرحمن کامل پناسی: پُناس
۹ ۔ محمد حسین باصر ( ان کے والد دربھنگہ سے آکر کشن گنج میں بس گئے تھے۔ کشن گنج کچہری میں باصر صاحب کی ملازمت تھی)
۱۰ ۔ مولوی محبوب الرحمن محبوب: مالک جہانگیر پریس / محبوب پریس۔ ( مجگواں، تھانہ قصبہ، پورنیہ آبائی وطن تھا لیکن کشن گنج میں مستقل طور پر بس گئے تھے)
۱۱ ۔ سید انور حسین انور: ٹھاکر گنج
۱۲ ۔ خلیل الرحمان اشک گوپال پوری
۱۳ ۔ منشی محمد ابراہیم وفا: التا باڑی، بہادر گنج
مندرجہ بالا شعراے کرام میں سے بعض کا کلام مکمل اور بعض کا کچھ حصہ دستیاب ہے۔
تحفۂ احسان مطبوعہ 1940ء اور اخبار “انسان” کا پورنیہ نمبر مطبوعہ 1955ء سیمانچل کے ادب، ثقافت اور صحافت کے تعلق سے دو اہم تاریخی دستاویزات ہیں۔ لیکن اس سے قبل 1934ء میں بھی مولوی نظیر الاسلام وکیل اور سکریٹری” بزمِ احباب” کشن گنج نے ایک گلدستۂ مشاعرہ کشن گنج “ارمغان اتفاق” کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا تھا۔”
آخر میں مستحسن عزم کے مجموعۂ کلام “ہموار نہیں کچھ بھی” سے کچھ اشعار:
کھینچتا ہے اپنی جانب حرص کا دریا مجھے
لے نہ جائے یوں بھنور تک یہ دلِ تشنہ مجھے
اپنی محنت سے بدلنی ہیں لکیریں ہاتھ کی
اپنے چہرے کو عطا کرنا ہے اک چہرا مجھے
اپنی آنکھوں میں نمی رکھ لی ہے
میں نے یوں لاج تری رکھ لی ہے
اک ستمگر کو ستانے کے لیے
میں نے ہونٹوں پہ ہنسی رکھ لی ہے
نکل کے دل سے مرے حافظے میں رہتا ہے
درونِ ذات کوئی رابطے میں رہتا ہے
شرافت کی، مروت کی، حیا کی بات کرتا ہے
وہ خود ہے بے وفا لیکن وفا کی بات کرتا ہے
ہمارے بعد یہ رسمِ وفا رہے نہ رہے
گلے ملو کہ یہ آب و ہوا رہے نہ رہے
مجھے تو عزم پہنچنا ہے اس کنارے پر
کہ ناؤ ہو کہ نہ ہو ناخدا رہے نہ رہے
جب سے ہمارا گھر کئی کمروں میں بٹ گیا
دیوار و در کا پیار بھی حصوں میں بٹ گیا
میری خوشی کا عزم یہی ایک راز ہے
میرا ہر ایک غم مرے شعروں میں بٹ گیا










