رشید پروینؔ سوپور
پچھلے پچھتر برس کے دوران جموں و کشمیر میں جو سیاسی عدم استحکام رہا ہے اس کی اپنی کئی اور بڑی اہم وجوہات رہی ہیں ، اور اس میں کوئی دو رائیں نہیں کہ اگر کبھی عوامی سطح پر کشمیری عوام نے اس سیاسی گورکھدھندے سے نکلنا بھی چاہا تو کانگریس اور این سی کی حکمت عملی نے اس سے ہمیشہ مایوسی کیلئے اندھیروں میں دھکیلنے کی کا میاب کوششیں کیں، مف۱۹۸۷ کے انتخابات ایک بہترین موقعہ تھا جب پہلی بار کشمیری عوام نے بھر پور انداز اور اپنی لگن کے ساتھ بھارتی جمہوریت میں اپنا اعتماد ظاہر کیا تھا ،یہ بڑا ہی نازک اور دیکھا جائے تو ایک ٹرننگ پوائینٹ بھی بن سکتا تھا ، اور ایک ایسے عمل میں ڈھل سکتا تھا ،جہاں موجودہ حکومت کو وہ ساری چیزیں نہیں کرنی پڑتی جو انہوں نے کی ہیں ۔لیکن این سی اور کانگریس کی ملی بھگت نے کچھ ایسا گھناونا کھیل کھیلا کہ عوام کا اعتماد اس جمہوریت سے ہی اٹھ گیا ،ظاہر ہے کہ نئی نسل نے وہی راہ اختیار کی جو دنیا کی ہر کچلی،ہوئی ،مسلی ہوئی اور روندی ہوئی قوم کرتی ہے ، یہاں ملی ٹینسی نے جنم لیا جس نے کشمیرکی ایک پوری نسل کو نگل لیا ، شہر شہر قبرستان آباد ہوئے اور لاکھوں بچے یتیم ہوئے اور اسی تعداد میں دلہنوں کے سہاگ لٹ گئے اور ہنستے ،کھیلتے گھرانے اجڑ گئے ،یہ سیاہ اور تاریک دور لگ بھگ بیس برس پر محیط رہا اور آج بھی اُ س دور کی باقیات کشمیری عوام کے دل و جگر کو چیر رہی ہیں ،،اس دور حکومت میں خصو صاً ۵ اگست۲۰۱۹ کے بعد کے حالات اور واقعات سیاسی لحاظ سے منفرد بھی ہیں اور کشمیری عوام کے لئے کچھ اجنبی سے بھی ہیں ،کیونکہ حق یہی ہے کہ عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ سیاسی لہروں کا کناروں پر بیٹھ کر محظ تماشا دیکھ رہا ہے اور سیاسی دریا میں وہی کچھ پارٹیاں، جو شروع سے اپنے مفادات اور اقتدار کی خاطر عوام کے ذہنی عدم استحکام اور اضطراب کی وجوہات بنی ہیں آج بھی لہروں پر سوار اپنی اپنی سیاسی کشتیاں کھیتے جارہے ہیں ، اگر چہ اب ان تمام سیاسی پارٹیوں کے پاس بیچنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں ہے ، نہ نمک کی ڈلیاں ہیں نہ سبز رومال لہرائے جاسکتے ہیں، ۳۷۰ ہے نہ سٹیٹ ہے ، نہ جھنڈا ہے نہ اپنی کوئی شناخت ہے ،نہ آئین ہے یعنی اس طرح کا کوئی مال ان دکانوں میں نہیں رہا ہے جس سے بیچ کر کشمیری عوام جس سے بہت سارے مورخوں نے کبھی’’ خود رو گھاس ‘‘ تو کبھی ’’ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ‘‘قرار دیا ہے سنہرے خوابوں کی دنیا میں مدہوش ہوجاتے ، اب اس قسم کی کوئی بھنگ اور نشیلی دوا ان دکانوں میں موجود نہیں ، بس اب ہر پارٹی چھوٹی یا بڑی ، کا مطمع نظر اقتدار ہے اور اقتدار کے بغیر کوئی منزل نہیں ،، چاہئے یہ اقتدار اب مکمل فریکچرڈاور ٹوٹا پھوٹا ہی کیوں نہ ہو ، لیکن کیا یہ اقتدار کشمیرکی کسی سیاسی گھٹا میں موجود ہے جو کسی پارٹی پر برس کر اس سے گل و گلزار کردے ؟۔کشمیر نشین سیاسی پارٹیاں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ اتحاد کے بغیر اپنی سیاسی کشتی آگے بڑھانے کی کوئی صورت نہیں ،بلکہ اتحاد کے بعد بھی ماضی کی طرح ہی وہ اقتدار کے لئے مرکز کی ہی محتاج ہوں گی ، یہ اتحاد اس لئے بھی ناگزیر ہے کہ بی جے پی نے یہاں تو کیا ’انڈیا اتحاد ‘کے لئے بھی کوئی خاص سپیس نہیں چھوڑی ہے ،اور ہوسکتا ہے کہ یہ سفینہ اپنا ساحل چھوڑنے سے پہلے ہی چلو بھر پانی میں ڈوب جائے ، کشمیر نشین سیاسی پارٹیاں بھی لگتا ہے اندرون خانہ تنکوں میں منتشر ہی نظر آتی ہیں ۔ دیکھا دیکھی کچھ پارٹیوں نے انتخابی عمل کی شروعات کی ہے لیکن جیسا میں نے لکھا ہے ابھی یہ ساری پارٹیاں اسی مخمصے میں ہیں کہ نریٹو کیا بنایا جائے؟، کیونکہ اب ان کے سارے نریٹو جو بکتے تھے ، جب موجود ہی نہیں تو انہیں دکانوں میں سجایا بھی نہیں جاسکتا۔
اس لئے تمام سیاسی گھٹائیں اس لحاظ سے بارشوں سے خالی ہیں ، ، اس منظر نامے میں ہر چیز اور ہر بات کا دھند لکوں میں چھپا ہونا ایک قدرتی عمل ہے ، لیکن ایک بات جو صاف اور واضح نظر آرہی ہے وہ ان سیاسی پارٹیوں میں اتحاد کا نہ ہونا واضح ہے ، ان میں سے کچھ پارٹیاں اگر چہ انڈیا الائنس کے ساتھ اپنے اتحاد کا دعویٰ کرتی ہی لیکن در پردہ ان کا عمل کچھ اور ہے ، سیدھے سادھے الفاظ میں ان کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ تقسیم در تقسیم سے جھوج رہی ہیں ، گذشتہ انتخابات میں جموں کی دو سیٹیں بی جے پی اور کشمیر کی تین سیٹیں این سی کے حصے میں آئی تھیں ، بارہمولہ کی سیٹ این سی نے اپنے نام کی تھی ، اب کی بار اس سیٹ کے لئے کس سے منڈیڈیٹ دیا جائے گا ابھی کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ، اس حلقے سے انجینئر رشیدکی پارٹی جو اس وقت زیر حراست ہیں ،نے بھی انجینئر کے الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا ہے لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس سیٹ سے آزاد امیدوار کی حثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے ،،کیا واقعی وہ آزاد امیدوار ہی ہوں گے ؟ ان کے بارے میں بس یہی کہا جاسکتا ہے، کہ کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کی شروعات پیپلز کانفرنس سے کی تھی ، ۔پی ڈی پی میں مفتی کے نائب وزیر اعلیٰ بھی رہے اور ہواؤں کے رخ پر سوار ہوکے اپنا سفرجاری رکھا ، مرکز میں خاصے اثر و رسوخ کے حامل رہے ہیں۔اب جب کہ پہاڑی طبقہ جات کو’’مخصوص زمرہ ‘‘میں ڈالا جاچکا ہے تو امید کی جارہی ہے کہ انہیں ان طبقوں کی حمایت بھی حاصل رہے گی ، کیونکہ یہ خود بھی ان طبقوں سے منسلک ہیں۔لیکن اگر یہ امید وار کی حثیت سے کھڑے ہوئے تو بِنا کسی آشیرواد کے نہیں ہوں گے ۔۔ آگے جو بھی ہونے والا ہے لیکن صاف ظاہر ہورہا ہے کہ تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں ان انتخابات میں اپنے اپنے بل بوتے پر الیکشن میں حصہ لیں گی ،، ظاہر ہے کہ اس طرح سے وؤٹ بکھر جائے گا ، وؤٹر منتشر ہوں گے اور اس طرح کے ماحول کا فائدہ ہمیشہ حکمراں پارٹی ہی کو ہوتا ہے۔
جموں کے حلقوں سے یہی تاثر آرہا ہے کہ یہاں کا سیاسی ماحول بی جے پی کے ہی حق میں ہے ،غلام نبی آزاد کی ڈیمو کریٹک پارٹی میں اگرچہ تھوڑی سی جان ہے لیکن وہ اتنی سخت جان بھی نہیں کہ یہاں بی جے پی کے مقابل سیٹ نکال سکے ، سرینگرکے حلقے میں بھی شاید ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی ہے کیونکہ ابھی تک پی ڈی پی اور این سی کے کسی اتحادکا کوئی عندیہ نہیں مل رہا اور اس بار سید الطاف بخاری کی اپنی پارٹی بھی ان انتخابات کے لئے کمر کس چکی ہے ،اور ایسا پہلے ہی سے گماں ہے کہ اس پارٹی کو مرکز کا آشیرواد حاصل ہے ، لیکن یہ صرف قیاس ہے ،۔ اس میں کوئی دو رائیں نہیں کہ’ پی ڈی پی‘ اور’ اپنی پارٹی‘ کا بھی اس حلقے میں اپنا وؤٹر خاصی تعداد میں موجود ہے لیکن تنہا ان میں سے کوئی پارٹی یہ مہم سر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ،’ این سی‘ کا اگر چہ یہاں ایک بڑا وؤٹ بینک موجود ہے اور ابھی تک ایک ایسی جنریشن کی باقیات بھی موجو د ہیں جو شیخ محمد عبداللہ سے سیاسی طور نہیں بلکہ ان سے عقیدت کی بِنا پر ان کے ساتھ جڑے رہے ہیں اور انہیں۔ سیاست داں سے زیادہ’’ پیرو مرشد‘‘سمجھ کر ان کی ہر بات اور ہر عمل پر آنکھیں موندیں چلتے رہے ہیں ۔مختلف ریاستوں میںجہاں انڈیا الائنس کو سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کا مسلہ ہے و ہاں کشمیر نشین سیاسی پارٹیوں کے لئے بھی یہی مسلہ سوہانِ روح بنا ہوا ہے ،، کانگریس کی یہ روائت رہی ہے کہ وہ اب بھی اپنی پارٹی کو بڑی اور وننگ پوزیشن میں سمجھ کر دوسری پارٹیوں کے ساتھ تعاون نہیں کر پاتی اور یہی حال کشمیر میں نیشنل کانفرنس کا ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی ماضی میں کانگریس اور کشمیر میں این سی یکطرفہ میچ کھیلا کرتی تھی۔ لیکن اب پلوں سے بہت پانی بہہ چکا ہے اورجموں وکشمیر میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں ،جہاں پانچ پارلیمانی سیٹوں پر انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس وقت ان میں سے دو سیٹیں بی جے پی کے پاس اور تین این سی کے پاس ہیں،اور لداخ کی ایک اکیلی نشست بھی بی جے پی کے پاس ہے ،،، بہرحال پی ڈی پی بھی کم سے کم دو نشستوں پر کامیابی کی دعوے دار ہے ، ،، بارہمولہ اور سرینگر کی دو نشستوں کے لئے نئی سیاسی پارٹی الطاف بخاری او ر سجاد غنی لون کی پیپلز پارٹی اتحاد کے لئے کوشاں ہیںاور ذرایع کے مطابق ان میںمشورے بھی ہورہے ہیں ، ۔ یہ بیل منڈھے چڑھ گئی تویقینی طور پر سخت مقابلے کی صورتحال پیدا ہوگی ، اور اس ضمن میں انجینئر رشید جو کہ حراست میں ہے کی پارٹی بھی ان انتخابات میں آنا چاہتی ہے ،ظاہر سی بات ہے کہ اگر یہ ساری پارٹیاں اپنے اپنے بل پر انتخابات میں حصہ لیتی ہیں تو وؤٹ بکھر جانے کا قوی اندیشہ ہے ، جس کا فائدہ بی جے پی کے سوا کس کو ہوسکتا ہے ؟ اس لئے بی جے پی کی بھی یہی سٹریٹجی ہوگی کہ سارے بھارت میں بشمول کشمیر کے۔ پارٹیاں کسی بھی اتحاد کے بغیر انتخابی میدان میں اتر جائیں ، اس پسِ منظر میں اب کی بار بی جے پی چار سو پار کے نعروں کے ساتھ الیکشن میدان میں اتر چکی ہے ۔ اور کشمیر نشین سیاسی پارٹیوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو سیاسی گھٹاؤں میں ان کے لئے کوئی بارش کا قطرہ نہیں جو ان کے سیاسی باغیچوں کو زندگی دے سکے ۔










