editorial

کشمیر کی سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ،لوگوں کو مشکلات کا سامنا

وادی بھر میں سڑکوں کی خستہ حالت اور 2014کے تباہ کن سیلاب کے دوران ڈہہ گئی پلوں میں سے بیشتر کی تعمیرنہ کرنے پرعوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ رواں برس کے چھ ماہ اختتام ہونے کوآئے تاہم آر اینڈ بی کی جانب سے میگڈم بچھانے سڑکوں کی کشادگی یانئی سڑکیں تعمیرکرنے کے حوالے سے ابھی تک سرگرمیاں دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔وادی کشمیرمیں 60-7-فیصد سڑکیں خستہ ہوچکی ہے گرمائی دارالخلافہ سرینگر میں اندرونی علاقوں کی سڑکیں اس قدر خستہ ہوچکی ہے کہ ان پرسفر کرنا اب دشوار ہوتا جارہاہے ۔گرمائی دارلخلافہ کے علاوہ دیگرعلاقوں میںبھی صورتحال اسے ابتر ہوچکی ہے سڑکوں کی خستہ حالت سے عام زندگی بڑی طرح متاثر ہوتی ہے بیماروں، مزدوروں، تاجروں ،طلبہ ،سرکاری ملازم او ردوسرے مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی خدمات انجام دینے میں مشکلوں کاسامناکرناپڑتاہے ۔سال2023میں آر ایندبی محکمہ نے بلندبانگ دعوے کئے تھے کہ سڑکوں کی تعمیرکے بارے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ دی جائے گی تاہم سال کے اختتام کے بعد جواس بات کاانکشاف ہوا کہ آر اینڈ بی کی جانب سے رقومات خرچ نہ کرنے کی وجہ سے بڑی مقدار میں پیسے لیپس ہوگئے جسکی وجہ سے وادی کشمیر میں با لعموم اور بالخصوص سڑکوںپرمیگڈم بچھانے کشادگی کرنے اور نئی سڑکیں تعمیرکرنے کے کاموں کوفروغ بہیں ملا۔ عوامی حلقوں کے مطابق رواں برس کے چھ ماہ گزرنے کے قریب ہے ۔صوبہ کشمیرمیں آر اینڈ بی کی سرگرمیاں ٹھنڈے دکھائی دے رہی ہے نہ فنڈس کی کمی دکھائی دے رہی ہے اور نہ متعلقہ ادارے کاخاموش رہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ عوامی حلقے مطالبہ کررہے ہیںکہ سڑکوں پرمیگڈم بچھانے اور ان کی مرمت کرنے کشادگی کاکام یقینی بنانے نئی سڑکیں تعمیرکرنے کے ضمن میں جلد سے جلد اقدامات اٹھائے جائے تاکہ لوگوں کوسفر کرنے تجارت کوفروغ دینے ترقی کی منزلوں کوچھونے میں مشکلوں کاسامناناکرناپڑے ۔