Mining ban strips Kashmir stone carvers of both livelihood and identity

کشمیر کی سنگ تراشی روایت، وقت اور جدیدیت کی تلاش میں

کان کنی پر پابندی نے کشمیر کے سنگ تراشوں کی روزی اور شناخت دونوں چھین لیں

سرینگر//یو این ایس// کشمیر کی تہذیب و ثقافت میں پتھر کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہاں گھروں کی بنیادیں پتھروں سے اٹھتی ہیں، باغات میں سنگِ مرمر کے فوارے سجتے ہیں، اور مرنے والوں کی یاد قبروں پر کندہ کتبوں کے ذریعے زندہ رکھی جاتی ہے۔ مگر انہی پتھروں سے جڑی صدیوں پرانی سنگ تراشی کی روایت آج خاموشی کے دہانے پر کھڑی ہے۔کشمیر میں سنگ تراشی، جسے مقامی زبان میںسنگ تراش کہا جاتا ہے، ایک قدیم ہنر ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ اس فن میں بنیادی طور پر دیورے کنہ نامی مقامی پتھر استعمال ہوتا ہے، جس سے قبریں، کرب اسٹون، فرش کے پتھر، اوکھلی موسل، حمام کے لیے حرارتی پتھر، اور دیگر گھریلو و مذہبی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ تاہم 2019 میں نافذ کی گئی کان کنی پر پابندی نے اس روایت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔سرینگر،پانپورت شاہراہ پر واقع سیمپورہ میں آج بھی سڑک کنارے چھوٹی ورکشاپ نظر آتی ہیں، جہاں سنگ تراش چھینی اور ہتھوڑی کی مدد سے پتھروں کو زندگی بخشتے ہیں۔ دن بھر پتھر سے نبرد آزما ہونے کے بعد یہی کاریگر تھکن اتارنے کے لیے نون چائے کی چسکیاں لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر یہ منظر اب رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے۔اس کے برعکس شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے گاؤں سندرکوٹ میں یہ آوازیں تقریباً مکمل طور پر خاموش ہو چکی ہیں۔ یہاں کی پہچان سمجھے جانے والے سنگ تراش دیورے پتھر کی عدم دستیابی کے باعث بے روزگار ہو چکے ہیں۔سنگ تراش عبدالاحد، جو1998 سے اس پیشے سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں’’میں نے برسوں اس کام سے اپنے بچوں کو پالا۔ پابندی کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ حکومت کہتی ہے کوئی اور کام ڈھونڈ لو، مگر متبادل کہاں ہے؟ یہ ہنر ہماری زندگی ہے۔‘‘ایک اور کاریگر غلام رسول کے مطابق، یہ نقصان صرف معاشی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے۔ان کا کہنا ہے’’یہ کام ہمارے خاندانوں میں نسلوں سے ہے۔ دوسری دستکاریوں کو سرکاری مدد ملتی ہے، مگر ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ‘کاریگروں کے اہلِ خانہ بھی اس بحران کی زد میں ہیں۔ایک سنگ تراش کی اہلیہ جمیلہ نے کہا’’میرے شوہر گھروں اور مساجد کے لیے پتھر تراشتے تھے۔ اب بنیادی ضرورتیں پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔‘‘بہت سے کاریگر مجبور ہو کر غیر ہنرمند مزدوری کی طرف چلے گئے ہیں، مگر یہ کام نہ تو مستقل ہے اور نہ ہی باعزت آمدنی فراہم کرتا ہے۔ شبیر احمد، جو اب مزدور ہیں، کہتے ہیں’’یہ فن ہماری پہچان تھا۔ اسے کھونا ایسے ہے جیسے اپنی شناخت کھو دینا۔‘قبروں کے کتبے بنانے والے تاجراعجاز احمد کے مطابق، مقامی دیورے پتھر سے بنے کتبوں کی مانگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب سنگ مرمر کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس سے مقامی کاریگروں کا روزگار مزید متاثر ہوا ہے۔اس کے باوجود سرینگر اورپانتھ چوک کے بعض علاقوں میں آج بھی دکانیں نظر آتی ہیں جہاں روایتی پتھری اشیاء فروخت ہو رہی ہیں، جو روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک کمزور سا پل قائم کیے ہوئے ہیں۔کشمیر کے دیگر اضلاع کے سنگ تراش بھی اسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور ایک ایسی پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ماحولیات کے تحفظ اور ثقافتی ورثے کے بقا کے درمیان توازن قائم کرے۔فی الحال، سندرکوٹ اور دیگر علاقوں کے سنگ تراش اس امید پر زندہ ہیں کہ ان کا ہنر، جو صدیوں سے کشمیر کی شناخت کا حصہ رہا ہے، تاریخ کے صفحات میں دفن نہیں کر دیا جائے گا۔ یہ صرف پتھر تراشنے کا فن نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک شناخت اور ایک طرزِ زندگی ہے، جو آج بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔