ہاتھ کی محنت اور روایتی نقش و نگار میں چھپی تاریخ کو زندہ رکھنے کی کوشش
سرینگر/یو این ایس// کشمیر دستکاری، تہذیب اور صدیوں پرانی روایت کی سرزمین ہے، جہاں ہر فن اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ انہی قیمتی ورثوں میں کشمیری تانبہ سازی کو نمایاں مقام حاصل ہے، جسے مقامی زبان میں کند کاری کہا جاتا ہے اور تانبے کو ’ترام‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صدیوں تک یہ فن کشمیری گھروں کی روزمرہ زندگی کا حصہ رہا، جہاں سماوار، لوٹا، نیر، تشت نیر، پیالے، تھالیاں اور دیگر برتن نہ صرف استعمال ہوتے تھے بلکہ ثقافتی وقار کی علامت بھی سمجھے جاتے تھے۔ کشمیری سماوار آج بھی دنیا بھر میں کشمیری شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق تاریخی طور پر اس فن کو فروغ حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی آمد کے بعد ملا، جنہوں نے وسط ایشیا سے ماہر کاریگروں کو لا کر مقامی لوگوں کو ہنر سکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ بعد ازاں سلطان زین العابدین، المعروف بود شاہ، کے دور میں تانبہ سازی کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی جس سے یہ فن اپنے عروج پر پہنچا۔ اسی دور میں شہرِ خاص کے کئی محلوں کو کاریگروں کے ناموں سے پہچان ملی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ہنر کشمیری معاشرے کی جڑوں میں کس قدر پیوست تھا۔تانبے کی اشیاء کی تیاری ایک نہایت صبر آزما اور محنت طلب عمل ہے جس میں کئی ماہر ہاتھ شامل ہوتے ہیں۔ کھار دھات کو شکل دیتا ہے، نقاش اس پر خوبصورت نقش و نگار ابھارتا ہے، زرکود ملمع چڑھاتا ہے، روشنگر پالش کرتا ہے اور چرک گر آخری صفائی کرتا ہے۔کشمیری کاریگر سماوار، لوٹا، تریم، ، تشت نیر، کٹوریاں، فانوس اور آرائشی برتن تخلیق کرتے تھے، جو نہ صرف گھروں کی زینت تھے بلکہ تہوار، شادی بیاہ اور مذہبی تقریبات میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔ یہ اجتماعی عمل صرف روزگار نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافت تھا، جس میں ہر کاریگر اپنی مہارت کے ذریعے روایت کو آگے بڑھاتا تھا۔ آج بھی شہرِ خاص کے چند بازاروں میں یہ منظر کہیں کہیں دکھائی دے جاتا ہے، جہاں ہتھوڑی کی آواز گویا ماضی کی گونج بن کر سنائی دیتی ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ فن نہ صرف ثقافتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اقتصادی طور پر بھی وادی کے کئی علاقوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ سن 19ویں صدی سے سرینگر کے شہرِ خاص اور زینہ کدل کے بازاروں میں یہ ہنر فروغ پاتا رہا اور یہاں ہزاروں کاریگر اپنی روزی روٹی اس فن کے ذریعے کماتے تھے۔تاہم جدید دور میں مشینی اشیاء کی یلغار نے اس قدیم فن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سستی فیکٹری مصنوعات نے ہاتھ کے ہنر کی قدر گھٹا دی، نئی نسل نے اس پیشے سے کنارہ کشی اختیار کی اور ہزاروں کاریگر معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے۔ بہت سے ہنرمندوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ فن آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں ہو پائے گا۔ اس کے باوجود، کچھ فنکار آج بھی امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں اور محدود وسائل کے باوجود اس روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق کشمیر کی تانبہ سازی نہ صرف ایک ثقافتی روایت ہے بلکہ وادی کے کئی چھوٹے کاروبار اور خاندانوں کی معاشی بنیاد بھی ہے۔ مشینی مصنوعات نے کاریگروں کی آمدنی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور کئی خاندان اپنے بچوں کو بھی اس فن میں تربیت دینے سے کترانے لگے ہیں۔ یہ بحران نہ صرف موجودہ نسل کے کاریگروں کے لیے خطرہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے اس ہنر کو معدوم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔2006 میں ’’جموں و کشمیر میں مخصوص تانبے کے برتنوں کی مشینی پیداوار پر پابندی کا قانون نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت مشینی آلات کے ذریعے تانبے کے برتن بنانے اور فروخت کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم، موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس قانون پر مناسب اور مؤثر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مشینی تیار شدہ برتن مارکیٹ میں عام ہیں اور روایتی ہاتھ سے تیار شدہ تانبے کے برتنوں کی حفاظت اور فروغ متاثر ہو رہا ہے۔تانبہ سازی محض ایک پیشہ نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیبی شناخت کا حصہ ہے، ایک ایسا ورثہ جو ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتا ہے۔ اگر حکومت، سماج اور متعلقہ ادارے سنجیدگی سے اس فن کی سرپرستی کریں تو نہ صرف یہ معدوم ہونے سے بچ سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر کشمیر کی ثقافت کو مزید فروغ بھی دے سکتا ہے۔ ’’قصب چھ حبیبْ اللہ ‘‘( ہنر خدا کو محبوب ہے )یہ قول آج بھی کشمیری کاریگروں کی محنت، صبر اور تخلیقی جذبے کی علامت ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ تانبہ سازی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیبی اور اقتصادی شناخت ہے۔










