کشمیر کاپر ایسوسی ایشن نے روایتی کاریگروں کے تحفظ

کے لیے مشین سے تیار شدہ تانبے کی اشیاء پر مکمل پابندی کا کیا مطالبہ

سرینگر//وی او آئی//کشمیر کاپر ایسوسی ایشن نے آج ٹنکی محلہ نوہٹہ میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں مشین سے بنے تانبے کی مصنوعات سے ہزاروں روایتی کاریگروں کے روزگار اور اس قدیم صنعت کو لاحق سنگین خطرے پر بحث کی گئی۔اجلاس کی صدارت کشمیر کاپر ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد وانی نے کی۔اجلاس کا مرکزی موضوع بازار میں آنے والی تمام مشینی تانبے کی اشیاء￿ پر فوری اور مکمل پابندی کا متفقہ مطالبہ تھا۔ ایسوسی ایشن کے اراکین نے کہا کہ ان مصنوعات کا بڑھتا ہوا استعمال ‘‘ہمارے کاریگروں کو متاثر کر رہا ہے اور ہمارے مستقبل کو برباد کر رہا ہے’’ کیونکہ یہ ہاتھ سے تیار شدہ روایتی تانبے کی اشیاء￿ کی قیمت اور قدر کو کم کر رہی ہیں، جو کشمیری ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ایسوسی ایشن نے شہرِ خاص ٹریڈرز اینڈ چیمبرز کے چیئرمین بشیر احمد کانّو، جنرل سیکریٹری وسیم خان، آرگنائزر عرفان بشیر، نائب صدر فردوس احمد بیگ اور کور ممبر فرہان کتاب سے بھرپور حمایت حاصل کی۔ چیئرمین بشیر احمد کانّو نے خطے کی منفرد وراثت کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔سینئر بی جے پی لیڈر انجینئر کامران نے انتظامی سطح پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔نوہٹہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے پولیس انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کو بھرپور حمایت دینے کا عزم ظاہر کیا، تاکہ روایتی دستکاری کو تحفظ مل سکے۔کشمیر کاپر ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد وانی نے کہا،‘‘یہ محض کاروبار کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک قدیم ہنر کے تحفظ کا معاملہ ہے جو کشمیر کی شناخت ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پابندی کو فوری نافذ کیا جائے تاکہ ہمارے محنت کش کاریگروں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔’’کشمیر کاپر ایسوسی ایشن کو امید ہے کہ تجارتی تنظیم، سیاسی نمائندوں اور پولیس کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کے بعد مشینی تانبے کی اشیاء پر مکمل پابندی جلد نافذ ہوگی، جس سے روایتی تانبے کی صنعت کا تحفظ اور ترقی ممکن ہو سکے گی۔