سری نگر، 30 جنوری (یو این آئی) وادی کشمیر میں سردیوں کے بادشاہ چالیس روزہ ’چلہ کلان‘ نے اپنے اقتدار آخری دن بھی لوگوں کو ٹھٹھرتی سردیوں سے دوچار کرکے آبی ذخائر اور گھروں میں نصب نلوں میں پانی کو منجمد کر دیا۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
بتادیں کہ سری نگر میں 14 جنوری کو رواں سیزن کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا اور سردیوں کو پچیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔
وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں منفی 8.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور ککر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
متعلقہ محکمے کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں 31 جنوری سے ہی موسم ایک بار پھر کروٹ بدل سکتا ہے اور 3 فروری کو ہلکے سے درمیانی درجے کی برف باری متوقع ہے۔
دریں اثنا وادی میں ہفتے کے روز بھی موسم خشک رہا تاہم شبانہ سردیوں کا زور برابر جاری رہنے سے صبح کے وقت آبی ذخائر منجمد اور گھروں میں نصب نلوں کا پانی جم گیا تھا۔
وادی میں لوگ دن کے دوران بھی موسم ابر آلود رہنے کی وجہ سے سردیوں سے ٹھٹھرتے رہے اور لوگوں کو سڑکوں پر جلائے گئے آگ کے ڈھیروں کے سامنے اپنے ہاتھوں کو گرم کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ اس چلہ کلان کے تیکھے تیور کے مظاہرے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس چلہ کلان کے دوران نہ صرف بھاری برف باری ہوئی بلکہ ریکارڈ ساز سردیوں نے بھی لوگوں کا قافیہ حیات تنگ کر کے رکھ دیا۔
قابل ذکر ہے کہ چالیس روزہ چلہ کلان کا دور اقتدار ہفتے کے روز اختتام پذیر ہوا اور اتوار سے بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوگا۔
چلہ خورد کے دور اقتدار میں اگرچہ بھاری برف باری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے لیکن اس چلہ کے دوران سردیوں کی شدت میں بتدریج کمی درج ہوتی ہے










