کشمیر ٹریڈ الائنس کا جی ایس ٹی اصلاحات کا خیر مقدم

اصلاحات سے تجارت، سیاحت اور دستکاری کو فائدہ پہنچے گا; شہدار

سرینگر/ ٹی ای این / کشمیر ٹریڈ الائنس نے جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے اعلان کردہ اہم اصلاحات کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے، جس سے ٹیکس کی ادائیگی میں آسانی، بوجھ میں کمی اور جموں و کشمیر کی تجارت و سیاحت پر مبنی معیشت کو نئی تقویت ملے گی۔کے ٹی اے کے صدر اعجاز شہدار نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ جی ایس ٹی ڈھانچے کو سادہ بنا کر چار سلیب سے 2 پر لانے کا فیصلہ تاجروں، دکانداروں اور چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہوگا۔انہوں نے کہاko ’’پہلے کا کثیر سلیبی نظام پیچیدہ اور بوجھل تھا، جس سے الجھنیں، تنازعات اور غیر ضروری کاغذی کارروائی بڑھتی تھی۔ چار سے دو سلیب پر منتقلی سے نہ صرف کمپلائنس آسان ہوگا بلکہ صارفین کی قیمتوں میں استحکام، شفافیت میں بہتری اور تاجروں کو کاروبار پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے بہتر ماحول فراہم ہوگا۔‘‘شہدار نے زور دیا کہ ان اصلاحات کا اثر تمام شعبوں پر مثبت ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’جی ایس ٹی نظام کو سادہ بنانا صرف ٹیکس کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ جموں و کشمیر کی مجموعی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ چھوٹے دکانداروں سے لے کر صنعتکاروں، ہوٹل مالکان اور کاریگروں تک، سب کو اس تبدیلی کا فائدہ ملے گا۔ آسان ٹیکس نظام کا مطلب ہے زیادہ کارکردگی، کم ہراسانی اور کاروبار کرنے کے لیے اعتماد میں اضافہ۔‘‘ہوٹل ٹیرف پر جی ایس ٹی کی شرح کو روپے7,500 تک کے کرایوں پر 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کے ٹی اے صدر نے کہا کہ اس سے کشمیر کی سیاحت کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا، ’’سستا رہائش سیاحوں کو متوجہ کرے گا، وادی کو ایک مسابقتی سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دے گا اور معیشت میں ضربی اثرات مرتب کرے گا۔ ہر سیاح ٹرانسپورٹ، دکانوں، کاریگروں اور مقامی خدمات فراہم کرنے والوں کے روزگار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ شہدار کا کہنا تھا کہ یہ قدم سیاحت کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جو جموں و کشمیر میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔‘‘کشمیری دستکاری پر جی ایس ٹی کو 12 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کیے جانے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے مطالبہ دہرایا کہ اس پر مکمل چھوٹ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری دستکاریاں صرف معاشی مصنوعات نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت اور شناخت کی نمائندہ ہیں۔ ہزاروں کاریگر اس شعبے پر انحصار کرتے ہیں۔ جی ایس ٹی سے مکمل چھوٹ نہ صرف ان کے روزگار کو تحفظ دے گی بلکہ کشمیری مصنوعات کو ملکی و غیر ملکی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنائے گی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس میں عقلی کمی سے صارف منڈیوں میں استحکام آئے گا۔ ’’جب نظام آسان اور منصفانہ ہو، تو اعتماد بحال ہوتا ہے۔ تنازعات کم ہوتے ہیں، خرچ بڑھتا ہے اور صارفین و تاجروں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ یہ اصلاحات جموں و کشمیر میں مجموعی کاروباری فضا کو بہتر بنائیں گی۔‘‘کشمیر ٹریڈ الائنس نے امید ظاہر کی کہ یہ اصلاحات مزید شعبہ جاتی اقدامات کی راہ ہموار کریں گی، خاص طور پر دستکاری پر مکمل جی ایس ٹی چھوٹ اور سیاحت سے متعلق خدمات کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ جموں و کشمیر کی اقتصادی بنیاد کو مضبوط کیا جا سکے