فیس ڈھانچہ، اساتذہ کی اہلیت اور حفاظتی سرٹیفکیٹس لازمی قرار
سرینگر/وی او آئی//حکومت نے کشمیر بھر کے کوچنگ سینٹروں پر سخت ضابطے نافذ کرتے ہوئے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان قواعد کے تحت اداروں کو فیس ڈھانچہ ظاہر کرنا، اساتذہ کی تفصیلات شائع کرنا، حفاظتی کلیئرنس لینا اور متعدد لازمی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق، ہر کوچنگ سینٹر کو کلاس وار اور مضمون وار فیس ڈھانچہ شائع کرنا ہوگا، جبکہ اساتذہ کی تعلیمی و پیشہ ورانہ اہلیت کو بھی کشمیری اخبارات میں علیحدہ طور پر شائع کرنا لازمی ہوگا تاکہ طلبہ اور والدین کے لیے شفافیت قائم ہو۔وائس آف انڈیا کے مطابق ہر ادارے کو عمارت کی حفاظت اور آگ سے بچاؤ کے سرٹیفکیٹس جمع کرانے ہوں گے، ساتھ ہی مالک کے کردار اور سابقہ ریکارڈ کے پولیس سرٹیفکیٹس بھی لازمی ہوں گے۔ مزید برآں، فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ سے تصدیق شدہ حلف نامہ دینا ہوگا کہ کسی بھی کوچنگ سینٹر میں کوئی سرکاری ملازم بطور استاد کام نہیں کر رہا۔ کلاس رومز کو مکمل طور پر بجلی سے منسلک، روشن اور ہوا دار ہونا چاہیے، محفوظ پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنا ہوگی، ضرورت پڑنے پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے ہوں گے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔ اداروں کو طلبہ کی شکایات کے حل کے لیے کمپلینٹ باکس یا رجسٹر بھی رکھنا ہوگا۔ اضافی ہدایات میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ بیت الخلا کی فراہمی اور بی پی ایل، یتیم یا بے سہارا طلبہ کے لیے 10 فیصد نشستیں لازمی طور پر مختص کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔










