سری نگر//جب خواتین بااختیار ہو جائیں گی تو تشدد میں کمی آئے گی۔ ’عسکریت پسند اب آبادی والے علاقوں اور مصروف بازاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار سری نگر میں واقع چنار کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے منگل کو کہا کہ کشمیر میں پائیدار امن لانے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ضروری ہے اور جب وہ بااختیار ہوجائیں گی، تشدد میں کمی آئے گی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق یہاں خواتین کے عالمی دن کی تقریب کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چنار کور کی کوششیں کشمیر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ہمیشہ جاری رہتی ہیں تاکہ انہیں وہ مقام مل سکے جس کی وہ حقدار ہیں۔خواتین معاشرے کے لیے طاقت کا ستون ہیں۔ کشمیر میں خواتین کے کردار کو دھچکا لگا، لیکن ہماری کوششیں اس کردار کو بحال کرنے اور انہیں دوبارہ بااختیار بنانے کے لیے کام کی جائے۔پانڈے نے کہا کہ کشمیر میں پائیدار امن لانے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے اور انہیں معاشرے میں وہ مقام دینا ہوگا جس کی وہ حقدار ہیں۔ “ایک بار جب خواتین کو بااختیار بنایا جائے گا تو تشدد میں کمی آئیگی۔”انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایل او سی پر پوزیشن اچھی ہے کیونکہ جنگ بندی ایک اچھی چیز ہے جو ہوئی ہے، خاص طور پر سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کے لیے۔ “دشمن ہمیشہ عام شہریوں، اسکولوں اور کھیتوں کو نشانہ بناتے تھے لیکن جب سے جنگ بندی ہوئی ہے، بچے اسکول واپس جاسکتے ہیں، اب سرحدوں پر زندگی بہت بہتر ہے۔”سری نگر میں گرینیڈ حملے کی مذمت کرتے ہوئے، پانڈے نے کہا، وہ لوگ جو نام نہاد “ہائبرڈ عسکریت پسندوں” کے ذریعے عسکریت پسندی کا پرچار کر رہے ہیں، اب آبادی والے علاقوں اور مصروف بازاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔یہ بزدلانہ اور انتہائی قابل مذمت حرکتیں ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ معاشرے کو ان حرکتوں کے خلاف اٹھنے کی ضرورت ہے اور ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔انہوں نے کہا: ’جنگجو سیکورٹی فورسز پر بڑے حملے انجام دینے میں ناکام ہو رہے ہیں اور اب ٹیرر کو بڑھاوا دینے والے لوگ نام نہاد ہائی برڈ جنگجوؤں کو بھیڑ بھاڑ والی جگہوں میں گرینیڈ داغنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے سماج کا بھی بہت بڑا رول بنتا ہے۔ملک کے دشمن خواتین کو پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ بچوں کو ٹیرر اور ڈرگس کے راستے پر چلانا آسان ہوسکے‘۔لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمد پر اتفاق ہونے کا ایک سال مکمل ہونے کے بارے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں موصوف جی او سی نے کہا کہ ایل او سی پر اب لوگ معمول کی زندگی گذار رہے ہیں۔










