traffic jaam

کشمیر میں ٹریفک جام ایک سنگین مسئلہ

جموں وکشمیر میں بالعموم اور وادی کشمیرکے شہروں قصبوں میںٹریفک جام سے لوگوں کو نجات دلانے کے ضمن میں انتظامیہ کے دعوے مسلسل کھوکھلے ثابت ہورہے ہے ۔گرمائی دارلخلافہ سرینگر میں نصب کیی گئی ٹریفک سنگنل بیکار پڑی ہوئی ہے اور ٹریفک محکمہ جان بوجھ کراپنی ذمہ داریوں کو نبہانے کی کوشش نہیں کررہاہے یہ بات بھی اظہر شمس ہے کہ پارکنگ کابہتر انتظام نہ ہونے کے باعث شہروں اور قصبوں میںٹریفک میں خلل پڑرہاہے ۔پچھلے دودہائیوں سے جموںوکشمیر میں انتظامیہ ایک بہترٹرانسپورٹ پالسی عمل میںلانے ٹریفک جام سے لوگوںکونجات دلانے ٹریفک قوانین پرمن عن عمل کرانے کی یقین دہانیاں دے رہی ہے۔ تاہم زمینی سطح پرٹریفک قوا نین پرکس حدتک عمل ہورہاہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جموں سرینگرشاہراہ کاجہاںتک تعلق ہے سفرکرنے والے مسافروں کوکہناہے کہ 320کلو میٹراس لمبی شاہراہ پردنیاکاسب سے بدترین ٹریفک جام ہوتا ہے اورجب متعلقہ اداروںکواس بارے میں کہاجاتاہے تو لینے کے دینے پڑتے ہے مال مسافربردار گاڑیاں روک دی جاتی ہے بلاوجہ تنگ طلب کیاجاتاہے اورجرمانہ بگھتنے پرمجبور ہوناپڑتاہے یہی حال وادی کشمیرکے بڑے شہروں قصبوںمیں ہے ٹریفک جام اب دن بدن پھر سے سنگین رُخ اختیار کرتاجارہاہے منٹوں کاسفرگھنٹوں میں تبدیل ہورہاہے جتنے بھی بڑی شاہراہوں سرینگر،اننت ناگ، سرینگر،مظفرآباد شاہراہ سوپور،کپورہ شاہراہ، بانڈی پورہ، سرینگرشاہراہ سرینگرلہہ شاہراہ ان شاہراہوںپرجس بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہورہاہے ا سکی کی ہی مثال نہیں مل پارہی ہے۔ ٹریفک جام ہونے کے وجوہات کیا ہواکرتے ہے یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ آور ٹیکنگ آور لوڈنگ کی وجہ سے ٹریفک جام ہورہاہے ۔بڑ ے شہروں اورقصبوں میں ٹریفک سنگل کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کئے اسلئے خرچ کئے کہ ٹریفک کی آواہ جاہی قوائد وضوابط کے تحت ہوگی اور ٹریفک جام سے سفرکرنے والوں کوراحت ملے گی سرینگر شہر میںایک جگہ ٹریفک سنگنل کام کرتاہے اور دوسرے تمام جگہوںپرجوٹریفک سنگنل نصب کئے گئے ہے وہ بیکار ہے ان سے کام نہیں لیاجاتاہے اورجب ٹریفک جام ہوتاہے تولوگ غم وغصے کااظہار کرتے ہے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ افرادی قوت کی کمی ہے ۔ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فٹ پاتھ بند پڑے ہوئے ہے کسی کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ ریڈی لگانے والے کوروک دے سرینگرمیونسپل کارپوریشن یادیگرقصبوں میونسپل کونسل کمیٹیاں فٹ پاتھوں کوآزادکرانے میںکام ہوچکی ہے ۔چھاپڑی فروشوں سے ٹیکس وصول کیاجاتاہے اورجہاں کئی بھی صوبائی انتظامیہ مسافر بردارگاڑیوں کے لئے اسٹینڈ قائم کیئے ہے ان اسٹینڈوں کواستعمال نہیں کیاجاتاہے ۔مسافر بردار گاڑیوں کے لئے سڑکوں کورکھاگیاہے جہاں مسافروں کواتارابھی جاتاہے اور چڑھایابھی جاتاہے ۔