کشمیر میں ندرْو کی کاشت: سینکڑوں خاندانوں کا سہارا

کشمیر میں ندرْو کی کاشت: سینکڑوں خاندانوں کا سہارا

ثقافتی ورثہ، غذائی خزانہ اور عالمی برانڈ بننے کی صلاحیت

سرینگر//وی او آئی//کشمیر میں ندرْو (کنول کی ڈنڈی) کی صدیوں پرانی کاشت آج بھی سینکڑوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ پانی سے ندرْو نکالنے کا عمل محض محنت نہیں بلکہ ایک محبت بھرا رشتہ ہے، جو نسل در نسل کشمیری ہاتھوں سے منتقل ہوتا آیا ہے۔ غلام نبی، جو ڈل جھیل کے معروف ندرْو کاشتکار ہیں، کہتے ہیں‘‘سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے ہیں، مگر یہ ہمارا روزگار بھی ہے اور ہماری پہچان بھی۔’’* ان کے ساتھ کھڑے راجہ فیاض مسکرا کر کہتے ہیں‘‘اصلی ندرْو اس کے صاف جوڑ اور اندرونی نرمی سے پہچانا جاتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے برسوں پانی کی خوشبو میں سانس لینا پڑتا ہے۔ کشمیری کھانوں میں ندرْو کی جگہ ناقابلِ بدل ہے۔ چاہے وہ دودھیا ندرْو یخنی ہو، تلوں کے ذائقے والی مصالحہ دار ڈش، یا ہاندھ چیمَن کے ساتھ اس کی کرکرا خوشبو،یہ ذائقہ ہر کشمیری کے لیے گھر کی یاد ہے۔ بزرگ خواتین ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر ندرْو نرم اور عمدہ نہ ہو تو سارا کھانا بے مزہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ندرْو کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاو دیکھا گیا ہے۔ سردیوں میں جب جھیلیں جم جاتی ہیں اور پیداوار کم ہو جاتی ہے تو قیمت فی کلو 300 سے 450 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ سرینگر کے ریڈی مارکیٹ کے دکاندار حکیم جان کے مطابق‘‘ندرْو لوگ ہر حال میں خریدتے ہیں۔ شکایت کرتے ہیں مگر بغیر لیے نہیں جاتے۔’’* دلچسپ بات یہ ہے کہ ندرْو کی خوشبو اب صرف کشمیر تک محدود نہیں رہی۔ دبئی، مسقط، دوحہ، لندن، نیویارک اور کینیڈا تک کشمیری ڈائسپورا کے لیے ندرْو محض سبزی نہیں بلکہ گھر کا ایک ٹکڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق ندرْو نہ صرف ذائقے میں بھرپور ہے بلکہ فائبر، معدنیات اور وٹامنز سے مالا مال ہے، اور کیلوریز میں کم۔ یہ دل کے مریضوں، ذیابیطس کے شکار افراد اور بچوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ اس لحاظ سے ندرْو ایک ثقافتی خزانہ بھی ہے اور غذائی نعمت بھی۔ کاشتکار علی محمد کا ماننا ہے کہ اس صنعت میں وسعت کی بڑی گنجائش ہے۔ جدید پیکجنگ، کولڈ اسٹوریج اور پروسیسنگ یونٹس کے ذریعے ندرْو کو آسانی سے ایک عالمی برانڈ میں بدلا جا سکتا ہے۔