صنعت و تجارت کے شعبے میں ضلع سری نگر، گاندربل اور جموں سرفہرست،صحت عامہ میں کولگام نے بازی ماری
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر حکومت نے شفاف اور جوابدہ طرز حکمرانی کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈسٹرکٹ گڈ گورننس انڈیکس (ڈی جی جی آئی) 5.0 جاری کر دیا ہے، جس میں مالی سال 2024-25 کیلئے یونین ٹیریٹری کے تمام 20 اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں 10 اہم شعبوں اور 58 اشاریوں کی بنیاد پر اضلاع کی درجہ بندی کی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق جاری کردہ انڈیکس کے مطابق ضلع جموں 7.0552 کے مجموعی اسکور کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ ضلع کھٹوعہ5.5826 کے اسکور کے ساتھ آخری مقام پر رہا۔ اسی طرح ضلع پلوامہ اور سامبانے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔رپورٹ کے مطابق ضلع جموں نے اگرچہ کچھ شعبوں میں معمولی کمی دیکھی، تاہم ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ، سماجی بہبود اور شہری خدمات کے شعبوں میں بہتری کے باعث مجموعی طور پر اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی۔ ضلع پلوامہ نے زرعی و متعلقہ شعبوں میں پہلی اور شہری خدمات میں دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے صحت عامہ، سماجی بہبود اور قانونی و عوامی تحفظ کے شعبوں میں نمایاں بہتری دکھائی، جس کی بنیاد پر اسے مجموعی طور پر دوسری پوزیشن ملی۔اسی طرح ضلع سانبہ نے صحت عامہ اور مالی شمولیت میں دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ دیگر شعبوں میں بہتری کے باعث مجموعی طور پر تیسری پوزیشن برقرار رکھی۔ دوسری جانب ضلع کٹھوعہ، جس کی گزشتہ انڈیکس میں 17ویں پوزیشن تھی، اس بار 20ویں مقام پر چلا گیا، اگرچہ اس نے بنیادی ڈھانچے، صحت عامہ اور ماحولیات کے شعبوں میں کچھ بہتری دکھائی۔زرعی و متعلقہ شعبوں میں ضلع پلوامہ، کشتواڑ اور ڈوڈہ نے بالترتیب پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی، جہاں باغبانی پیداوار، کسان کریڈٹ کارڈ اور ای-نام سے منسلک منڈیوں جیسے اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی۔ صنعت و تجارت کے شعبے میں ضلع سری نگر، گاندربل اور جموں سرفہرست رہے، جبکہ انسانی وسائل کی ترقی میں بڈگام، اننت ناگ اور کولگام نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔صحت عامہ کے شعبے میں ضلع کولگام پہلے، سانبہ دوسرے اور جموں تیسرے نمبر پر رہا، جہاں بچوں اور زچگی کی شرح اموات میں کمی، ٹیکہ کاری اور ہیلتھ سینٹرز کی بہتری جیسے عوامل شامل رہے۔ بنیادی ڈھانچے اور سہولیات میں گاندربل، شوپیان اور سری نگر نے بہترین کارکردگی دکھائی، جبکہ سماجی بہبود میں جموں، کشتواڑ اور کٹھوعہ سرفہرست رہے۔مالی شمولیت کے شعبے میں ریاسی، سانبہ اور پلوامہ نے پہلی تین پوزیشنز حاصل کیں، جبکہ قانونی و عوامی تحفظ میں ادھم پور، اننت ناگ اور جموں نمایاں رہے۔ ماحولیات کے شعبے میں گاندربل پہلے جبکہ شوپیان اور سری نگر بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ شہری خدمات کے شعبے میں کولگام اور سری نگر مشترکہ طور پر پہلے، جبکہ پلوامہ اور بارہمولہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جو پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے انچارج بھی ہیں، نے کہا کہ ڈی جی جی آئی اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لینے، خامیوں کی نشاندہی کرنے اور بروقت اصلاحات کیلئے ایک مؤثر روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع کو اپنی کارکردگی کا تجزیہ کر کے کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے تاکہ عوام تک بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف اکنامکس اینڈ اسٹیٹسٹکس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ شفاف، جوابدہ اور مؤثر نظام حکمرانی کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی جی آئی اضلاع کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ دیتا ہے اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں مددگار ہے۔مزید کہا گیا کہ انڈیکس کو مزید جامع بنانے کیلئے نئے اشاریے شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ ڈی جی جی آئی پورٹل کو اپ ڈیٹ کر کے ماہانہ نگرانی کے نظام سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔










