heat

کشمیر میں شدید گرمی کے نئے ریکارڈ

سرینگر میں 71 برس بعد درجہ حرارت 37.4 ڈگری تک پہنچا

سرینگر/وی او آئی//وادی کشمیر میں گرمی کی شدت میں زبردست اضافہ ہورہا ہے جبکہ سرینگر میں آج دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37.4ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیاگیا جس کے نتیجے میں شہر سرینگر کی سڑکیں سنیچر کے دن آگ اُگلتی نظر آئیں جبکہ دن بھر لوگوں کی نقل و حمل بھی محدود ہوگئی ۔ ادھر محکمہ کے مطابق گزشتہ سات دہائیوں کے دوران تیسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور ہفتہ کو کئی مقامات پر درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ محکمہ موسمیات کے سرینگر مرکز کے مطابق، آج سرینگر شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران تیسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔محکمہ کے مطابق، سرینگر میں 5 جولائی 1953 کو 37.7 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا، جو آج کے مقابلے میں محض 0.3 ڈگری زیادہ تھا۔ جبکہ سرینگر کا تاریخی بلند ترین درجہ حرارت 10 جولائی 1946 کو ریکارڈ ہوا تھا، جب درجہ حرارت 38.3 ڈگری سیلسیس تک پہنچا تھا۔گرمی کی یہ لہر صرف سرینگر تک محدود نہیں رہی بلکہ جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھی درجہ حرارت نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ ککرناگ میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.0 ڈگری سیلسیس رہا، جو جولائی کے مہینے کے لیے دوسرا بلند ترین ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل ککرناگ میں جولائی میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 34.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا جو کہ 28 جولائی 2024 کو ہوا تھا۔ادھر سیاحتی مقام پہلگام، جو عمومی طور پر ٹھنڈے موسم کے لیے جانا جاتا ہے، وہاں بھی غیر معمولی گرمی دیکھنے کو ملی۔ آج پہلگام میں درجہ حرارت 31.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو کہ اس مقام پر اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل 21 جولائی 2024 کو پہلگام میں 31.5 ڈگری سیلسیس کا ریکارڈ تھا۔محکمہ موسمیات کے ماہرین نے اس شدید گرمی کو موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی ہمالیائی خطے میں مسلسل بلند ہوتے درجہ حرارت نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت اور آبی وسائل کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے بعد وادی بھر میں گرمی سے بچاؤ کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے اسکولوں کی تعطیلات میں توسیع، پانی کی معقول فراہمی اور بجلی کی بلا تعطل دستیابی جیسے مطالبات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران بارش کی توقع ظاہر کی ہے، جو گرمی سے جزوی راحت کا سبب بن سکتی ہے۔دریں اثناء وادی میں گرمی کی شدت میں اضافہ کے بیچ سرینگر کی سڑکوں سے دن بھر جیسے آگ نکل رہی تھی جس کے نتیجے میں سڑکوں پر لوگوں کی نقل و حمل محدود ہوکے رہ گئیں جبکہ بازاروں میں ویرانی جیسی چھائی رہی ۔ ادھر سرینگر کے لالچوک اور دیگر علاقوں میں بھی دن بھر ہو کا عالم رہا اور دن کے اوقات میں لوگ زیادہ پیدل چلنے سے پرہیز کررہے تھے ۔ اس بیچ ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دن بھر کھلی دھوپ میں گھروں سے باہر نکلنے سے پرہیز کریں کیوں کہ براہ راست دھوپ میں زیادہ چلنے اور سخت محنت کرنے کی وجہ سے ہیٹ سٹروک کا بھی خطرہ بڑھتا ہے یہاں تک کہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے ۔