لڑکے زیادہ متاثر، اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال پر ماہرین کی تشویش
سرینگر/یو این ایس / کشمیر میں ہائی اسکول کے طلبہ میں اسمارٹ فون، ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال کے باعث ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ لڑکے اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ گروہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔یہ تحقیق لنانا جرنل آف انتر ڈسپلنری اسڈئز کے جنوری 2026 کے شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ایک نئی سائنسی تحقیق میں’’کشمیر، بھارت میں ہائی اسکول کے طلبہ کے درمیان سوشل میڈیا کے استعمال اور ذہنی صحت کے نتائج کے درمیان تعلق‘‘ میں انکشاف ہوا ہے کہ ساتویں سے بارہویں جماعت تک کے 246 طلبہ کو شامل کیا گیا جو وادی کے پانچ اسکولوں سے تعلق رکھتے تھے، جن میں دو دیہی اور تین شہری علاقوں کے اسکول شامل تھے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال اور طلبہ کی ذہنی صحت کے درمیان واضح منفی تعلق پایا گیا۔تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز کا استعمال ذہنی صحت پر سب سے زیادہ اثر انداز پایا گیا، جبکہ اسمارٹ فون کے استعمال اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے زیادہ استعمال سے بھی طلبہ کی نفسیاتی حالت متاثر ہوتی ہے۔ سروے میں شامل تقریباً 35 فیصد طلبہ نے اپنی ذہنی کیفیت کو درمیانی درجے کی قرار دیا جبکہ 9.3 فیصد طلبہ نے کمزور ذہنی صحت کی شکایت کی۔یہ تحقیق شعبہ صحت عامہ کے محقق ہ محمد حق کی قیادت میں کی گئی جس میں ماہرین امراض سید منظور ،انجم قادری،افشاںقادری، اور مسعود الحسن خان سمیت بین الاقوامی محققین نے بھی حصہ لیا۔تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ لڑکوں میں اسمارٹ فون کے استعمال، سوشل میڈیا سرگرمیوں، ویڈیو گیمز اور آن لائن دوستیوں کا رجحان لڑکیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم اس کے باوجود لڑکوں میں ذہنی صحت کی سطح لڑکیوں کے مقابلے میں کم پائی گئی۔مطالعے کے مطابق عمر کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ جبکہ ذہنی سکون میں کمی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں تعلیمی دباؤ، سماجی توقعات اور ڈیجیٹل دنیا میں زیادہ وقت گزارنا شامل ہیں۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب طلبہ کو موبائل فون استعمال کرنے یا پیغامات بھیجنے سے روکا جاتا ہے تو ان میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تقریباً 17 فیصد طلبہ نے بتایا کہ فون کال نہ کر پانے کی صورت میں انہیں شدید پریشانی محسوس ہوتی ہے جبکہ 14 فیصد طلبہ نے میسجنگ سروس تک رسائی نہ ہونے پر اسی طرح کی بے چینی کا اظہار کیا۔محققین کے مطابق کشمیر جیسے سماجی و سیاسی طور پر حساس خطے میں نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے اثرات کو سمجھنا انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں کے حالات نوجوانوں کی ذہنی کیفیت کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔یو این ایس کے مطابقماہرین نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے اسکولوں، والدین اور پالیسی ساز اداروں کو مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں میں ڈیجیٹل آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں، طلبہ کیلئے ذہنی صحت کی خدمات فراہم کی جائیں اور والدین بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں حقیقی سماجی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔تحقیق میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ خاص طور پر بڑے عمر کے لڑکوں پر توجہ دی جائے کیونکہ وہ اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔










