dooran_news

کشمیر میں رسوئی گیس کی قلت

وادی کشمیر میں سردیوں کے ایام شروع ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی میں رسوئی گیس کی قلت نے سنگین رخ اختیار کیا ہے تیل خاکی کی عدم دستیابی سے بھی لوگوں کو پریشانیوں کا سامناکرناپڑرہا ہے جبکہ دور دراز علاقوںمیں راشن گھاٹوں کے خالی ہونے پر لوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کیلئے راہ ہموار کر رہا ہے اور غذائی اجناس انہیں مہنگے داموں خریدنے پر انہیں مجبور ہوناپڑرہا ہے۔وادی کشمیر میں سردیوں کے دن شروع ہونے کے ساتھ ہی و ادی کے اطراف واکناف میں رسوئی گیس کی قلت نے سنگین رخ اختیار کیا ہوا ہے اور گیس ڈیلروں کی جانب سے رسوئی گیس گوداموںمیں چھپا کر اس کی بلیک مارکیٹنگ کی جاتی ہے اور صارفین کو جان بوجھ کر اپنے سب ایجنٹوں سے مہنگے داموں گیس خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ہوم ڈیلوری کا جو وعدہ کیا تھاوہ زمینی سطح پر کھوکھلا ثابت ہواہے اور کسی بھی علاقے میں متواتر ہوم ڈیلوری رسوئی گیس کی نہیں ہو رہی ہے بلکہ لمبی لمبی قطاریں گیس ڈیلروں کے دفتروں کے باہر گیس حاصل کرنے کیلئے کھڑی کی جاتی ہیں۔ صارفین نے اس بات پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا کہ گیس ڈیلروں کی جانب سے گیس سلنڈر بھی فراہم کرنے میں لیت ولعل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور صارفین کو مہنگے داموں گیس سلنڈر خریدنے پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ گیس ڈیلروں نے اپنے گوداموںمیں سینکڑوں رسوئی گیس کے سلنڈر چھپا دئے ہیں اور صارفین سے گیس دستیاب ہونے کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ عوامی حلقوںنے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے مٹی کا تیل اور غذائی اجناس راشن گھاٹوں پر دستیاب نہیں رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں صارفین کو مہنگے داموں غذائی اجناس حاصل کرنے پر مجبور ہوناپڑرہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق وادی کے دور دراز علاقوںکے راشن گھاٹ خالی ہونے کی وجہ سے کنڈی علاقوں کے لوگوںکو غذائی اجناس کے سلسلے میں سخت پریشانیوں کا سامناکرناپڑرہا ہے اور انہیں منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ عوامی حلقوںنے اس بات کی بھی شکایت کی ہے کہ کھانے پینے کے چیزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور سرکار کے کل پرزے زنگ آلودہ ہو چکے ہیں عوام کو سہولیات بہم پہنچانے کے سلسلے میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جار ہی ہے بلکہ عوام کو مصائب مشکلات میں مبتلا کرکے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو لوٹ کھسوٹ مچانے کی کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے۔