’اب گھر میں گھس کر ماریں گے‘، وزیرِ اعظم مودی کا دہشت گردوں کو دو ٹوک پیغام

کشمیر میں دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد امن قائم ہوا دہشت گردی ختم ہوئی

خطہ ملک کا سب سے بڑا ٹورسٹ ڈیسٹنیشن کے طور پر اُبھر رہا ہے ۔ وزیر اعظم

جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی مہاراشٹر کے نندربار میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔جہاں انہوںنے کانگریس پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہاکہ جموں کشمیر سے دفعہ 370ختم کرکے ملک کو مضبوط کیا گیا تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کو یہ بات کھٹک رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں امن کا نیاد ور شروع ہوا اور یہ خطہ اب ملک میں سب سے بڑا ٹورسٹ ڈیسٹنیشن کے طور پر اُبھرے گا تو اس میں کیا بُرائی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ اس دفعہ کا فائدہ کچھ سیاسی جماعتوںکو تھا لیکن عام لوگ ہر طرح کی سودھا سے محروم تھے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ریزرویشن اور آئین کو لے کر جھوٹ پھیلا رہی ہے، مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک مودی زندہ ہیں وہ کسی بھی مذہب کو ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کو ریزرویشن نہیں دینے دیں گے۔وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر عظم نریندر مودی نے جمعہ کو مہاراشٹریہ کے نند ر بار میں ایک عام جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور دیگر حز ب اختلاف کی جماعتوں پر الزام لگایا کہ انہوںنے کشمیر میں دہشت گردی کو فروغ دیا تھا اور جب دفعہ 370کو ہٹایا گیا تو ان کے پیٹ میں کنکر دوڑنے لگے ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ کشمیر میں امن کا نیاد ور شروع ہوا اور یہ خطہ اب ملک میں سب سے بڑا ٹورسٹ ڈیسٹنیشن کے طور پر اُبھرے گا تو اس میں کیا بُرائی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ اس دفعہ کا فائدہ کچھ سیاسی جماعتوںکو تھا لیکن عام لوگ ہر طرح کی سودھا سے محروم تھے ۔اس موقع پر ریزرویشن کے معاملے پر اپوزیشن کو گھیرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، “کرناٹک کی کانگریس حکومت نے راتوں رات تمام مسلمانوں کو او بی سی کیٹیگری میں شامل کرکے ریزرویشن دے دیا، آپ کا کوٹہ چھین کر مسلمانوں کو دینا اس کا پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں، میں مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دینے دوں گا، ہمارے آئین میںمذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینا اصولوں کے خلاف ہے۔ سام پیٹروڈا کے تبصرے پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ شہزادے کے گرو نے امریکہ کو بتایا کہ رام مندر کی تعمیر ہندوستان کے تصور کے خلاف ہے۔ کانگریس ہندو عقیدے کو ختم کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔ریلی میں پی ایم مودی نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے کبھی قبائلی سماج کو عزت نہیں دی اور نہ ہی اسے عزت دینے دیا۔ قبائلی انقلابیوں نے جدوجہد آزادی میں بہت قربانیاں دیں لیکن وہ اس قربانی کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ کانگریس پوری آزادی کی جدوجہد کا کریڈٹ صرف ایک خاندان کو دیتی ہے۔ یہ بی جے پی ہی ہے جو قبائلی آزادی پسندوں پر ایک میوزیم بنا رہی ہے، تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ ہمارے قبائلی آباؤ اجداد نے ملک کے لیے کتنی قربانیاں دی تھیں۔پی ایم مودی نے کہا کہ بی جے پی نے قبائلی بیٹی کو صدر بنایا اور ایسا پہلی بار ہوا ہے، لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیے، وہ کون لوگ تھے، انہوں نے قبائلی بیٹی دروپدی مرمو کو صدارتی انتخاب میں ہرانے کے لیے دن رات کام کیا۔ یہ کانگریس کے لوگ تھے جنہوں نے ایک قبائلی بیٹی کو صدر بننے سے روکنے کے لیے دن رات کام کیا۔ لیکن کانگریس پارٹی نے ایسا کیوں کیا اس کی وجہ صرف دو تین دن پہلے ہی واضح ہوگئی۔ کانگریس کے شہزادے کے گرو امریکہ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی عوام کے خلاف نسل پرستانہ تبصرہ کیا ہے۔ رنگ کی بنیاد پر امتیازی سلوک، ایسا سنگین الزام لگایا گیا ہے۔ کانگریس ان لوگوں کو افریقی سمجھتی ہے جن کا رنگ بھگوان کرشن جیسا ہے، اس لیے ان کے لیے یہ قابل قبول نہیں تھا کہ دروپدی مرمو کا صدر بننا چاہیے۔وزیر اعظم مودی نے مزید کہا، “کانگریس جانتی ہے کہ وہ ترقی میں مودی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسی لیے انہوں نے اس الیکشن میں جھوٹ کی فیکٹری کھول دی ہے اور وہ جھوٹ پھیلا کر ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی ریزرویشن کو لے کر جھوٹ بولتے ہیں، کبھی آئین کے بارے میں۔ وہ کانگریس کے حالات کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں، ‘مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن بابا صاحب امبیڈکر کی روح کے خلاف ہے، لیکن کانگریس کا ایجنڈا دلت، پسماندہ، قبائلی ریزرویشن کو چھین کر اپنے ووٹ بینک کو دے دو!