Nayeem Ul Haq

کشمیر میں خشک موسم اور دھند، فضائی آلودگی مزید ایک ہفتے تک برقرار رہے گی: محکمہ موسمیات

بارش کی شدید کمی، اسموگ اور ذرات کی تہہ صحت کے لیے خطرہ، ماہرین نے خبردار کیا

سرینگر//وی او آئی//محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں جاری خشک موسم اور فضائی ا?لودگی ا?ئندہ ایک ہفتے سے زیادہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ سردی اور ہوا میں پھیلاو کی کمی کے باعث معلق ذرات نے ایک گھنی دھند کی شکل اختیار کر لی ہے، جو مسلسل تیسرے ہفتے سے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سرینگر، مختار احمد کے مطابق اکتوبر سے بارش نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 13 اور 14 دسمبر کے دوران ایک کمزور مغربی ہواو?ں کا سلسلہ (Western Disturbance) وادی میں داخل ہوگا، جبکہ 17 دسمبر اور تیسرے ہفتے میں مزید کمزور سلسلے متوقع ہیں۔ تاہم کوئی بڑا مغربی سلسلہ نظر نہیں آ رہا، اس لیے خشک موسم بڑی حد تک جاری رہے گا۔ احمد نے کہا کہ 13 دسمبر سے بادل چھائے رہنے کے باعث کم سے کم درجہ حرارت میں معمولی اضافہ ہوگا، لیکن اسموگ اور فضائی آلودگی میں خاطر خواہ کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ‘‘جب تک بارش نہیں ہوتی، فضائی معیار میں بڑی بہتری ممکن نہیں۔ کشمیر میں معمول کے مطابق بارش کا صرف 50 فیصد ریکارڈ ہوا ہے۔ – نومبر میں جموں و کشمیر میں بارش کی مجموعی کمی 80 فیصد سے زیادہ رہی۔ PM10 اور PM2.5 کی سطحیں تشویش ناک حد تک بلند ہیں، خاص طور پر وسطی کشمیر میں۔ – جغرافیائی ساخت اور درجہ حرارت کی الٹ پھیر (Temperature Inversion) ذرات کو زمین کے قریب پھنسائے رکھتی ہے۔ – گاڑیوں کے دھوئیں اور دیگر ذرائع سے ذرات کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے حساس گروپوں (بچوں، بزرگوں، دمہ کے مریضوں) کو خبردار کیا ہے کہ علامات مزید بگڑ سکتی ہیں۔ پھیپھڑوں کے ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں ہر سال تقریباً 10,000 اموات فضائی ا?لودگی سے منسلک ہیں۔ – یہ اموات زیادہ تر سانس اور دل کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔ باریک ذرات خون میں داخل ہو کر دمہ، COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور فالج جیسے امراض کو جنم دیتے ہیں۔ کشمیر میں COPD کا بوجھ بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔ عالمی مطالعہ GBD 2016 کے مطابق جموں و کشمیر میں COPD کی شرح ملک میں بلند ترین سطح پر ہے۔