محکمہ صحت کا بلیوں کی سر شماریاور ٹیکہ کاری سخت کرنے کا مطالبہ
سرینگر/ یو این ایس / کشمیر میں بلی یوںکے کاٹنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت کے حکام نے بلیوں کی آبادی کا باقاعدہ اندراج یعنی ’’کیٹ سینسَس‘‘ کرانے اور پالتو جانوروں کی ویکسینیشن کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اس وقتاینٹی ریبیز وسائل کا بڑا حصہ بلی کے کاٹنے سے متاثرہ مریضوں پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے صحت کا نظام اضافی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق صدر اسپتال، سری نگر کے’ اینٹی ریبیز کلینک‘ کے ایک سینئر افسر کے مطابق، رواں برس اب تک کلینک میںتقریباً 12 ہزار کتے اور بلی کے کاٹنے کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 6,500 سے زائد کیس صرف بلیوں کے کاٹنے کے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ بلی کے کاٹنے کے واقعات نے کتے کے کاٹنے کے کیسوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہاینٹی ریبیز کلینک ہر سال تقریباً 40 لاکھ روپے’ اینٹی ریبیز‘ علاج پر خرچ کرتا ہے، جن میں سے قریب 60 فیصد اخراجات صرف بلییوں کے کاٹنے کے کیسوںپر ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے پہلے سے محدود وسائل پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ماہرینِ صحت کے مطابق، کووِڈ کے بعد کشمیر میں بلیوں کو بطور پالتو جانور رکھنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ٹیکہ کاریاور ذمہ دارانہ پالتو جانوروں کی دیکھ بھال سے متعلق شعور انتہائی کم ہے۔ایک اور افسر نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ بلیاں نقصان دہ نہیں ہوتیں اور ریبیز نہیں پھیلاتیں، جومکمل طور پر غلط ہے۔ اگر بلیوں کو ویکسین نہ دی جائے تو وہ بھی کتے کی طرح ریبیز منتقل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب اینٹی ریبیز کلینک آنے والے 50 فیصد سے زائد مریض بلی کے کاٹنے یا خراش کے شکار ہوتے ہیں۔ویٹرنری ماہرین اور ڈاکٹروں نے کہا کہ کشمیر میں پالتو جانوروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود بنیادی حیوانی صحت کے اصول جیسے ویکسینیشن، ڈی ورمنگ، صفائی، دانتوں کی دیکھ بھال اور باقاعدہ طبی معائنہ اکثر نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بلیوں کے مالکان اور گھر کے افراد، خاص طور پر وہ لوگ جو بلیوں کے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں، خود حفاظتی ویکسین نہیں کرواتے، جس سے بیماری پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ بغیر ٹیکہ جانور، ناقص صفائی اور غیر مناسب دیکھ بھال سے زونوٹک بیماریاں (جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں) پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلی کے خراش سے ٹوکسوپلاسموسس جیسی بیماری بھی لاحق ہو سکتی ہے، جو خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔محکمہ صحت کے حکام نے یاد دلایا کہ ریبیز ایک سو فیصد جان لیوا بیماری ہے اور علامات ظاہر ہونے کے بعد اس کا کوئی علاج نہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 59 ہزار افراد ریبیز کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں زیادہ تر کیسز ایشیا اور افریقہ میں سامنے آتے ہیں۔حکام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پالتو جانوروں کی رجسٹریشن، ویکسینیشن مہمات، عوامی بیداری پروگرام اور بلیوں کی مکمل مردم شماری جیسے اقدامات فوری طور پر کیے جائیں تاکہ وسائل کی درست منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔محکمہ صحت کے مطابق، ذمہ دارانہ پالتو جانوروں کی دیکھ بھال صرف جانوروں کی فلاح نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عوامی صحت کا معاملہ ہے، جس سے انسانی جانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سرکاری وسائل کی بھی بچت ممکن ہے۔










