وادی کشمیر جوقدرت کی انمول شئے آب سے مالا مال ہے تا ہم درجنوں علاقوں میں لوگوں نے ایک دفعہ پھر پینے کی پانی کی عدم دستیابی کے خلاف جل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور الزام لگا یاکہ ناصاف پانی استعمال کرنے سے طرح طرح کی بیماریوں کے وہ شکار ہوگئے ہے اور متعلقہ ادارے کی جانب سے پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہے ۔رواں برس کے ابتداء سے ہی وادی کے طول ارض میں قلت آب کے خلاف لوگوں نے شکایتیں کرنا شروع کی اور بار بار جل شکتی محکمہ کو سینکڑوں علاقوں میں پینے کاصا ف پانی فراہم کرنے کامطالبہ کیاتاہم جل شکتی محکمہ کی جانب سے لوگوں کی جائز شکایت کاازالہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جاتے اُلٹا دوسرے علاقوں میں بھی قلت آب کاسلسلہ شروع ہوا اور اب پوری وادی میں پینے کے پانی کی قلت نے سنگین رُخ اختیار کیا۔ 21وی صدی میں جب لوگ ترقی کے منزلوں پر گامزن ہوئے ہے پلوامہ کے مختلف علاقوں میں ٹینکروں کے ذریعے ہفتے میں تین دن پینے کاپانی فراہم کیاجاتاہے اور چند گیلن حاصل کرنے والوں کو اگلے تین دنوں کاانتظار کرنا پڑتاہے یہ صورتحال صرف پلوامہ کی ہی نہیں وادی کے دوسرے علاقوں میں صورتحال اس سے بھی ابترہے درجنوں علاقے ایسے ہے جہاں لوگوں نے ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا نام تو سناہے لیکن انہیں کبھی بھی ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی غیرسرکاری طور پرجواعداد شمارسامنے آئے ہے ان کے مطابق 486علاقے ایسے ہیں جہاں پی ایچ ای محکمہ لوگوں کوپینے کاصاف پانی فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہورہاہے لوگ ناصاف پانی استعمال کرنے پرمجبور ہے طرح طرح کی بیماریاں پھوڑ پڑنے سے لوگوں کی حالت دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے اورعومی حلقے جموںو کشمیرانتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہے کہ 2022کے آخرتک ہرگھرمیں نل اور ہرگھر کوفراہم کرنے کاجواعلان کیاجاتاہے کیاوادی کشمیر میں وہ کبھی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتاہے۔ عوامی حلقوں کاماننا ہے کہ جل شکتی محکمہ نے جوواٹرسپلائی اسکیمیں تعمیرکی ہے اور جوفلٹریشن پلانٹ نصب کئے ہے ان میں سے 90فیصدبیکار پڑے ہے ا سکے پیچھے کیامحرکات ہے اس کی گہرائی میں جائے بغیر اگر یہ کہاجائے کہ متعلقہ ادارہ اپنے فرائض منصبی کوانجام نہیں دے رہاہے تو جائز ہے۔ عوامی حلقوں نے لیفٹننت گورنرسے مطالبہ کیاکہ جن جن علاقوں میں لوگوں کوپینے کے پانی کاقلت کاسامنا کرنا پڑتاہے ا سے دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے تاکہ 21وی صدی میں بھی لوگ ناصاف پانی استعمال ناکریں ۔










