Malvindar Singh Mali

’’کشمیر الگ ملک اور بھارت کا زبردستی قبضہ‘‘کہنا مہنگا پڑ گیا

پنجاب کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو کے مشیر مالویندر سنگھ مالی کو استعفیٰ دینا پڑا

سری نگر//پنجاب کانگریس کے صدر کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے مشیر مالویندر سنگھ مالی نے کشمیر پر کئے گئے متنازعہ تبصرے کے بعد استعفی دینا پڑگیا ہے۔ کے این ایس کے مطابق مالویندر سنگھ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’کشمیر الگ ملک ہے اور بھارت نے اس پر زبردستی قبضہ کررکھا ہے‘‘۔ مذکورہ مشیر کے اس سوشل میڈیا پوسٹ پر تمام حلقوں نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ تنقید کا سامنا کرنے کے بعد مالویندر سنگھ مالی نے بعد میں کہا تھا کہ ان کے خیالات ذاتی ہیں اور کسی سیاسی جماعت سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن ان کا پوسٹ موجودہ حالات اور وقت کے مطابق نہیں تھا۔مالی نے بعد میں صفائی دیتے ہوئے پوسٹ کیا تھا کہ ‘بھارت کے بارے میں میری ‘سیاسی سمجھ’ وفاقی بھارت اور جمہوری ریاستیں ہیں۔’ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی تائید کرتا ہوں جیسا کہ 1947 میں کیا گیا تھا، جس طرح زرعی قوانین کسانوں اور آئین کے خلاف ہیں، ویسے ہی دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی بھی آئین کے خلاف ہے، یہ میرے ذاتی خیالات ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت اور فرد سے کوئی تعلق نہیں۔تاہم مالویندرسنگھ نے اس کے بعد سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کا ایک متنازع کارٹون اپنے فیس بک پیج پر شیئر کر دیا تھا۔23 اگست کو وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے دونوں مشیروں مالویندر سنگھ مالی اور پیارے لال گرگ کو آڑے ہاتھ لیا۔دوسری جانب سدھو کے ایک دیگر صلاح کار پیارے لال گرگ نے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ کو پاکستان کے خلاف نہ بولنے کی صلاح دی تھی اور کہا تھا کہ یہ پنجاب کے حق میں نہیں ہے۔پنجاب کے انچارج ہریش راوت نے اس سے قبل پارٹی کے رہنما نوجوت سنگھ سدھو سے کہا تھا کہ وہ اپنے مشیروں مالویندر سنگھ مالی اور پیارے لال گرگ کو ہٹا دیں، جنہوں نے گذشتہ چند ہفتوں میں وزیراعلی امریندر سنگھ اور ان کے ساتھیوں پر طنزیہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔مالویندر سنگھ مالی نے جمعہ کو سدھو کے مشیر کی حیثیت سے استعفی دیتے ہوئے لکھا ‘میں پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو کو تجاویز دینے کے لیے دی گئی اپنی رضامندی واپس لیتا ہوں۔’کشمیر سمیت حساس مسائل پر مالویندر مالی کی فیس بک پوسٹس اور کیپٹن امریندر سنگھ اور ان کے حامیوں پر ذاتی حملوں نے پنجاب کانگریس میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔