کشمیری گلاس یعنی شاہ دانہ کی شاہانہ شان وشوکت برقرار

13ہزارسے14ہزار میٹرک سالانہ پیداوار،مقامی اورغیر مقامی لوگوں کورہتا ہے لال لال گیلاس کاانتظار

سری نگر//کشمیری گیلاس یعنی شاہ دانہ کی شاہانہ شان وشوکت آج بھی قائم ہے ،کیونکہ دیکھے یاقدوقامت وسائز میں چھوٹا ہونے کے باوجوداس میوے کوسبھی لوگ پسند کرتے ہیں ۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق میوہ باغات یا گھریلو باغیچوں ،پارکوں وصحنوں میں گیلاس کادرخت شوق کیساتھ لگایاجاتاتھا،تاکہ تیار ہوتے ہی پہلے خودشاہ دانہ کامزہ لیاجائے ۔کشمیرمیں شاہ دانہ یعنی گیلاس کی سالانہ پیداوار13ہزارسے14ہزار میٹرک کے لگ بھگ رہتی ہے ،اوریہ مخصوص کشمیری میوہ بھی برآمد یعنی Exportکیاجاتاہے ،ہرسال مئی اور جون کے مہینے میں شانہ دانہ سے بھرے ڈبے بیرون ریاستوں کی منڈیوں میں بھیجے جاتے ہیں ،اورمتعلقہ زمینداروں کیلئے یہ چھوٹامگرلذیذمیوہ بھی آمدنی کاایک ذریعہ ہے ۔متعلقہ زمیندارکہتے ہیں کہ سیب کے درختوں کی طرح گیلاس کے درختوں کی دواپاشی بھی کی جاتی ہے تاہم گیلاس کے درختوں کی زیادہ دیکھ بال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔تاہم انہوں نے کہاکہ شاہ دانہ کئی پرندوں کا پسندیدہ میوہ ہے ،اسلئے وہ گیلاس تیار ہوتے ہی اس کونقصان پہنچانا شروع کرتے ہیں ۔گیلاس کی پیداوار سے جڑے ایک زمیندار نے کہاکہ گیلاس جب تیارہونے لگتے ہیں تو زیادہ بارشیں بھی ان کونقصان پہنچاتی ہیں ،کیونکہ گیلاس میں کچھ خاص قسم کی بیماریاں لگ جاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم ہرسال مئی اورجون کے مہینے میں درختوں سے تیار گیلاس یعنی شاہ دانہ کواُتارنا شروع کرتے ہیں ،اورپھر ان کوالگ الگ کرکے اعلیٰ اورمعیاری قسم کے گیلاس کی ڈبہ بندی شروع ہوتی ہے ۔کشمیرمیں شاہ دانہ کی سب سے زیادہ پیداوارسری نگر کے کچھ مضافاتی علاقوں بشمول شالیمار ،ہارون ،ضلع گاندربل ،ضلع شوپیان اورشمالی کشمیر کے کچھ علاقوں میں ہوتی ہے ۔گاندربل سے تعلق رکھنے والے ایک زمیندار نے کہاکہ کشمیری گیلاس یعنی شاہ دانہ کی کم سے کم پانچ یاچھ قسمیں زیادہ مشہور یاعام ہیں ،جن میں چری اول ،اٹلی ،مشری گیلاس ،مخملی ،ڈبل اورہائی برڈشامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گیلاس کے یہ قسم ایک ساتھ تیارنہیں ہوتے ہیں بلکہ وقفے سے وقفے سے یہ تیار ہوجاتے ہیں ۔زمینداروں کواسبات کاملال ہے کہ محکمہ باغبانی کی جانب سے جتنی توجہ سیب اوردیگرمیوہ جات کی جانب دی جاتی ہے ،اُتنی توجہ کشمیری شاہ دانہ کی طرف آج تک نہیں دی گئی ۔