Kashmiri pandit

کشمیری پنڈت گھر واپس آنے میں دلچسپی نہیں رکھتے

95فیصدی کنبے دلی اور ملک کے دیگر شہروں میں آبادہوئے

سرینگر//کمشنر برائے ریلیف اینڈ ری ہبلیٹیشن نے کہا ہے کہ 90کی دہائی میں وادی کشمیر سے ہجرت کرنے والے اکثر کنبے جو دلی اورملک کے دیگر شہروں میں مقیم ہیں اب وادی واپس آنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں کیوں کہ ایک تو وہ اچھی طرح سے سیٹل ہوچکے ہیں جہاں ان کے بچے اب بہتر روزگار اور تعلیم حاصل کرچکے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ڈومسائل سرٹفکیٹ حاصل کرنے میں بھی اکثر کنبے عدم دلچسپی کا ماظاہرہ کررہے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریلیف ری ہبلٹیشن کمشنر اشوک پنڈیتا نے کہا ہے کہ وادی کشمیر سے ہجرت کرنے والے اکثر کنبے اب وادی واپس لوٹنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ انہوںنے کہا کہ ڈومسائل سرٹفکیٹ میں بھی اکثر لوگ دلچسپی نہیں رکھتے ۔ ایک موقر انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپرس یس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 90کی دہائی میں جو وادی سے چلے گئے ہیں ان میں سے اکثر دلی، ممبئی ، چنئی ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں آباد ہیںجبکہ ان میں صرف پچاس فیصدی سے کم ہی جموںمیں مقیم ہیں اور وہ بھی وہاں پر اب آباد ہوچکے ہیں جنہوںنے روزگار کے ساتھ ساتھ بہتر رہائش بھی حاصل کرلی ہیں اس لئے اب وہ وادی واپس لوٹنے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجر پنڈت خاندانوں نے سرکاری سکیم جاری ہونے کے باوجودہ بھی اس میں دلچسپی نہیں دکھائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دلی میں پچیس ہزار سیزائد غیر رجسٹر کشمیری پنڈت آباد ہیں جن میں سے صرف تین ہزار لوگ ہی فارم جمع کرنے آئے ۔ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اسکیم کے اعلان کے ایک سال بعد صرف 806 خاندانوں نے درخواستیں جمع کروائیں۔ایک سرکاری اندازے کے مطابق کشمیری پناہ گزینوں اور بے گھر خاندانوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہوگی۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ان میں سے بیشتر ایک جگہ یا دوسری جگہ مستقل طور پر آباد ہو چکے ہیں اور یہ خاندان اب کشمیر واپس نہیں آنا چاہتے اور چاہے وہ ڈومیسائل سکیم کے تحت اپنا نام رجسٹر کروانا چاہتے ہوں ، اس کا واحد مقصد ‘ڈومیسائل’ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہے ۔ڈومیسائل سرٹیفکیٹس میں عدم دلچسپی کے بارے میں انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے ، ریلیف ، اور بحالی کمشنر اشوک پنڈیتا نے کہا کہ جب پاکستان کے کنٹرول میں رہنے والوں کو شامل کرنے کی بات آتی ہے تو یہ معاملہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پنڈیتا کا کہنا ہے کہ جب کوئی آن لائن درخواست جمع کراتا ہے تو اسے رہائش کی اصل جگہ لکھنی پڑتی ہے۔ بہت سے لوگ میرپور ، مظفر آباد ، کوٹلی ، راولاکوٹ ، اور دیگر اضلاع میں رہتے ہیں۔ اس صورت میں ، ہم اپنے کمپیوٹرز کے آبائی مقامات کے نام قبول نہیں کرتے۔ یہ صرف ایک سافٹ وئیر کا مسئلہ نہیں ہے کہ اسے خود ہی حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔1980 کی دہائی کے آخر میں کشمیر میں عسکریت پسندی کے پھیلنے کے بعد کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے کشمیر سے ہجرت کی اور ہندوستان کے دیگر شہروں میں آباد ہو گئے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے گزشتہ سال 16 مئی کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد ایک اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت وہ تمام افراد جو برسوں پہلے یا ان کے آباؤ اجداد ریاست چھوڑ کر دوسری جگہ آباد ہوئے تھے وہ جموں میں کمشنر برائے ریلیف اینڈ ری ہبلیٹیشن (ریفیوجیز) کے دفتر میں اپنا اندراج کرواسکتے ہیں اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔اس ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا مقصد ریاست سے ہجرت کرنے والوں اور خاص طور پر کشمیری پنڈتوں کو ان کی زمین دوبارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی زیر انتظام علاقوں میں روزگار اور تعلیم کے مواقع حاصل کرنے میں ان کی مدد کرنا تھا۔جموں و کشمیر انتظامیہ نے توقع کی تھی کہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اسکیم کا گرمجوشی سے خیر مقدم کیا جائے گا لیکن لوگوں نے اس اسکیم میں کم دلچسپی دکھائی۔ اس اسکیم میں عدم دلچسپی کے باوجود جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ یہ اسکیم اب 15 مئی 2022 تک نافذ العمل رہے گی۔کمشنر برائے ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن نے ان مقامات پر خصوصی کیمپ لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جہاں کم از کم 50 خاندان کشمیر سے درخواستیں وصول کرنے کے لیے رہائش پذیر تھے۔