واپسی کا دروازہ کھلا ہے، مگر فیصلہ پنڈت برادری کا //ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر/یواین ایس // نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بے گھر کیے گئے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا ہمیشہ خیر مقدم کیا جائے گا، کیونکہ وادی میں ان کا اپنا گھر اور حق ہے، تاہم انہیں شک ہے کہ آیا زیادہ تر کشمیری پنڈت اب مستقل طور پر واپس آنا چاہیں گے یا نہیں۔یو این ایس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر کشمیری پنڈت اب ملک کے مختلف حصوں میں نئی زندگیاں بسا چکے ہیں، ان کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور روزگار سے وابستہ ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وہ صرف ملاقات یا عارضی قیام کے لیے آئیں، مگر مستقل واپسی کا امکان کم ہے۔یو این ایس ایس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب کشمیری پنڈت برادری 19 جنوری کو 1990 میں وادی سے انخلا کی یاد میں یومِ المیہ منا رہی ہے، جب دہشت گردی اور دھمکیوں کے باعث انہیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ بہت سے کشمیری پنڈت خاندان آج بھی وادی میں اپنے گاؤں اور محلوں میں پرامن طور پر رہائش پذیر ہیں۔انہوں نے سوال کے جواب میں کہا’’انہیں واپس آنے سے کون روک رہا ہے؟ کوئی نہیں۔ یہ ان کا گھر ہے، انہیں واپس آنا چاہیے۔ آج بھی بہت سے کشمیری پنڈت وادی میں رہ رہے ہیں۔‘‘کشمیری پنڈتوں کے مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ پہلے ہی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ حکومت ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ برادری کو خود بھی زمینی حالات کا جائزہ لینا ہوگا کیونکہ اکثر افراد عمر رسیدہ ہو چکے ہیں، کئی طبی علاج میں مصروف ہیں اور ان کے بچے ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا’’وہ آ سکتے ہیں، مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ مستقل طور پر وہاں واپس آ کر رہائش اختیار کریں گے۔‘‘










